مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 170
اعلان پادری وائٹ بریخٹ صاحب پر اتمام حجت اور میاں فتح مسیح کی دروغ گوئی کی کیفیت ہم اپنے اشتہار ۲۴؍ مئی ۱۸۸۸ء میں جو مطبع شمس الہند گورداسپور میں چھپا تھا۔اس بات کو بتصریح بیان کر چکے ہیں کہ میاں فتح مسیح صاحب واعظ عیسائی نے ملہم ہونے کا جھوٹا دعویٰ کر کے پھر ۲۱؍ مئی ۱۸۸۸ء کے جلسہ میں تمام حاضرین کے رو برو جن میں معزز ہندو اور بٹالہ کے آریہ بھی تھے اپنی دورغ گوئی کا صاف اقرار کر دیا اور بالمقابل الہامی پیشگوئیوں کے پیش کرنے سے بھاگ گیا مگر افسوس کہ اسی عیسائی صاحب نے ۳۱؍ مئی ۸۸ء کو نور افشاں میں اپنی دروغ گوئی کے چھپانے کے لیے ظاہر کیا ہے کہ میں نے الہام کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔مقام تعجب ہے کہ ان دیسی عیسائیوں کو جھوٹ بولنے سے ذرا بھی شرم نہیں آتی۔بھلا کوئی ان سے پوچھے کہ اگر آپ نے ملہم ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا تو پھر کیوں ۲۱؍ مئی ۸۸ء کے جلسہ میں رائے بشمبرداس صاحب رئیس بٹالہ اور بابو گوردت سنگھ صاحب مختار عدالت نے آپ کو ملامت کی کہ ایسا جھوٹ کیوں بولا اور کیوں ناحق لوگوں کو تکلیف دی۔اور کیوں منشی محمد بخش صاحب مختار عدالت نے اُسی جلسہ میں شہادتاً بیان کیا کہ فتح مسیح انکار دعویٰ الہام میں بالکل جھوٹا ہے۔اس نے میرے رو برو ایک مجمع کثیر میں اپنے ملہم ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔بھلا یہ بھی جانے دو۔خود پادری وائٹ بریخٹ سے حلفاً دریافت کیا جائے کہ کیا ۱۸؍ مئی ۱۸۸۸ء میں