مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 162 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 162

ہونے میں باقی تھے کہ پیشگوئی پوری ہو گئی۔افسو س یہ دل کے اندھے نہیں دیکھتے کہ ہر ایک پیشگوئی ہماری خدا تعالیٰ کیسی پوری کرتا جاتا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ ان لوگوں کو خدا تعالیٰ کی کچھ پروا ہی نہیں۔اب جاننا چاہیے کہ وہ پیشگوئی جس کی اکتیس ماہ کی میعاد اور جس پر ہندوئوں کی گواہیاں ثبت کرائی گئی تھیں۔وہ ہمارے ’’چچازاد بھائی مرزا امام الدین و نظام الدین کے اہل و عیال کی نسبت تھی اور خدا تعالیٰ نے بذریعہ اپنے الہام کے اس عاجزپر یہ ظاہر کیا تھا کہ مرزا امام الدین و نظام الدین کے عیال میں سے اکتیسویں ماہ کے پورے ہونے تک کوئی شخص فوت ہو جائے گا۔چنانچہ عین اکتیسویں مہینہ کے درمیان مرزا نظام الدین کی دُختر یعنی مرزا امام الدین کی بھتیجی بعمرسال (پچیس سال) ایک بہت چھوٹا بچہ چھوڑ کر فوت ہو گئی اور آریوں کا شور و غوغا وہیں سرد ہو گیا۔یہ خدا تعالیٰ کے کام ہیں کہ وہ ہمیشہ سچ کی حمایت کرتا ہے اور صادق کی پناہ ہوتا ہے۔اب ہم اس جگہ الہامی پیشگوئی کی وہ عبارت لکھ دیتے ہیں جس پر قادیان کے ہندوئوں کے دستخط ہیں اور وہ یہ ہے:۔مرزا امام الدین و نظام الدین کی نسبت مجھے الہام ہوا ہے کہ اکتیس ماہ تک ان پر ایک سخت مصیبت پڑے گی ان کی اہل و عیال و اولاد میں سے کسی مرد یا کسی عورت کا انتقال ہو جائے گا جس سے ان کو سخت تکلیف اور تفرقہ پہنچے گا۔آج ہی کی تاریخ کے حساب سے جو تیئس ساون ۱۹۴۲ مطابق ۵؍اگست ۱۸۸۵ء ہے۔یہ واقعہ ظہور میں آئے گا۔مرقوم ۵؍ اگست ۱۸۸۵ء گواہ شد پنڈت بھارا مل ساکن قادیان بقلم خود گواہ شد پنڈت بیجناتھ بقلم خود گواہ شد بشنداس برہمن بقلم خود گواہ شد بشنداس کھتری بقلم خود بالآخر ہم امرت سر اور لاہور کے نامی آریہ صاحبوں کی خدمت میں التماس کرتے ہیں کہ