مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 139
اور تعلیمات قرآنی پر اعتراض ہو تو مناسب ہے کہ وہ اوّل بطور خود خوب سوچ کر دو تین ایسے بڑے سے بڑے اعتراض بحوالہ آیاتِ قرآنی پیش کریں جو ان کی دانست میں سب اعتراضات سے ایسی نسبت رکھتے ہوں جو ایک پہاڑ کو ذرّہ سے نسبت ہوتی ہے یعنی ان کے سب اعتراضوں سے ان کی نظر میں اقویٰ و اشد اور انتہائی درجہ کے ہوں جن پر ان کی نکتہ چینی کی پُرزور نگاہیں ختم ہوگئی ہوں اور نہایت شدت سے دوڑ دوڑ کر انہیں پر جاٹھہری ہوں سو ایسے دو یا تین اعتراض بطور نمونہ پیش کرکے حقیقت حال کو آزما لینا چاہیے کہ اس سے تمام اعتراضات کا بآسانی فیصلہ ہوجائے گا کیونکہ اگر بڑے اعتراض بعد تحقیق ناچیز نکلے تو پھر چھوٹے اعتراض ساتھ ہی نابود ہوجائیں گے اور اگر ہم ان کا کافی و شافی جواب دینے سے قاصر رہے اور کم سے کم یہ ثابت نہ کر دکھایا کہ جن اصولوں اور تعلیموں کو فریق مخالف نے بمقابلہ ان اصولوں اور تعلیموں کے اختیار کررکھا ہے وہ ان کے مقابل پر نہایت درجہ رذیل اور ناقص اور دور از صداقت خیالات ہیں تو ایسی حالت میں فریق مخالف کو در حالت مغلوب ہونے کے فی اعتراض پچاس روپیہ بطور تاوان دیا جائے گا، لیکن اگر فریق مخالف انجام کار جھوٹا نکلا اور وہ تمام خوبیاں جو ہم اپنے ان اصولوں یا تعلیموں میں ثابت کرکے دکھلاویں بمقابل ان کے وہ اپنے اصولوں میں ثابت نہ کرسکا تو پھر یاد رکھنا چاہیے کہ اُسے بلاتوقف مسلمان ہونا پڑے گا اور اسلام لانے کے لئے اوّل حلف اٹھا کر اسی عہد کا اقرار کرنا ہوگا اور پھر بعد میں ہم اس کے اعتراضات کا جواب ایک رسالہ مستقلہ میں شائع کرا دیں گے۔اور جو اُس کے بالمقابل اصولوں پر ہماری طرف سے حملہ ہوگا اس حملہ کی مدافعت میں اس پر لازم ہوگا کہ وہ بھی ایک مستقل رسالہ شائع کرے اور پھر دونوں رسالوں کے چھپنے کے بعد کسی ثالث کی رائے پر یا خود فریق مخالف کے حلف اٹھانے پر فیصلہ ہوگا جس طرح وہ راضی ہوجائے لیکن شرط یہ ہے کہ فریق مخالف نامی علماء میں سے ہو اور اپنے مذہب کی کتاب میں مادہ علمی بھی رکھتا ہو اور بمقابل ہمارے حوالہ اور بیان کے اپنا بیان بھی بحوالہ اپنی کتاب کے تحریر کرسکتا ہو۔تاناحق ہمارے اوقات کو ضائع نہ کرے۔اور اگر اب بھی کوئی نامنصف ہمارے اس صاف صاف منصفانہ طریق سے گریز اور کنارہ کرجائے اور بدگوئی اور دشنام دہی اور توہین اسلامسے بھی باز نہ آوے تو اس