مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 128
اِشتہار واجبُ الاظہار نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ چونکہ اس عاجز کے اشتہار مورخہ ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء پر جس میں ایک پیشگوئی دربارہ تولّد ایک فرزند صالح ہے جو بہ صفات مندرجہ اشتہار پیدا ہو گا۔دو شخص سکنہ قادیان یعنی حافظ سلطانی کشمیری و صابر علی نے رو بروئے مرزا نواب بیگ و میاں شمس الدین و مرزا غلام علی ساکنان قادیان یہ دروغ بے فروغ برپا کیا ہے کہ ہماری دانست میں عرصہ ڈیڑھ ماہ سے صاحبِ مشتہر کے گھر میں لڑکا پیدا ہو گیا ہے۔حالانکہ یہ قول نا مبردگان سراسر افترا اور دروغ و بمقتضائے کینہ و حسد و عناد جبلّی ہے۔جس سے وہ نہ صرف مجھ پر بلکہ تمام مسلمانوں پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔اس لیے ہم اُن کے اس قول دروغ کا ردّ واجب سمجھ کر عام اشتہار دیتے ہیں کہ ابھی تک جو ۲۲؍ مارچ ۱۸۸۶ء ہے۔ہمارے گھر میں کوئی لڑکا بجز پہلے دو لڑکوں کے جن کی عمر ۲۰، ۲۲ سال سے زیادہ ہے، پید انہیں ہوا، لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایسا لڑکا بموجب وعدہ الٰہی ۹ برس کے عرصہ تک ضرور پیدا ہو گا خواہ جلد ہو خواہ دیر سے۔بہرحال اس عرصہ کے اندر پیدا ہو جائے گا۔اور یہ اتہام کہ گویا ڈیڑھ ماہ سے پیدا ہو گیا ہے، سراسر دروغ ہے۔ہم اس دروغ کے ظاہر کرنے کے لیے لکھتے ہیں کہ آج کل ہمارے گھر کے لوگ بمقام چھائونی انبالہ صدر بازار اپنے والدین کے پاس یعنی والد میر ناصر نواب صاحب نقشہ نویس دفتر نہر کے پاس بودوباش رکھتے ہیں اور ان کے گھر متصل منشی مولا بخش صاحب ملازم ڈاک ریلوے۔اور بابو محمد صاحب کلرکدفتر نہر رہتے