مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 124
متوحش خبریں جو کسی کے ابتلاء اور کسی کی موت و فوت اعزہ اور کسی کی خود اپنی موت پر دلالت کرتی ہیں جو انشاء اللہ القدیر بعد تصفیہ لکھی جائیں گی منجانب اللہ منکشف ہوئی ہیں۔اور ہر ایک کے لئے ہم دعا کرتے ہیں۔کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اگر تقدیر معلّق ہو تو دُعائوں سے بفضلہٖ تعالیٰ ٹل سکتی ہے۔اسی لیے رجوع کرنے والی مصیبتوں کے وقت مقبولوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور شوخیوں اور بے راہیوں سے باز آ جاتے ہیں۔باین ہمہ اگر کسی صاحب پر کوئی ایسی پیشگوئی شاق گزرے تو وہ مجاز ہیں کہ یکم مارچ ۱۸۸۶ء سے یا اس تاریخ سے جو کسی اخبار میں پہلی دفعہ یہ مضمون شائع ہو۔ٹھیک ٹھیک دو ہفتہ کے اندر اپنی دستخطی تحریر سے مجھ کو اطلاع دیں تا وہ پیشگوئی جس کے ظہور سے وہ ڈرتے ہیں، اندراج رسالہ سے علیحدہ رکھی جاوے اور موجب دل آزاری سمجھ کر کسی کو اس پر مطلع نہ کیا جائے اور کسی کو اس کے وقت ظہور سے خبر نہ دی جائے۔اُن ہر سہ قسم کی پیش گوئیوں میں سے جو انشاء اللہ رسالہ میں بہ بسط تمام درج ہوں گی۔پہلی پیشگوئی جو خود اس احقر سے متعلق ہے آج ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء میں جو مطابق پندرہ جمادی الاول ہے، برعایت ایجاز و اختصار کلمات الہامیہ نمونہ کے طور پر لکھی جاتی ہے اور مفصل رسالہ میں درج ہوگی۔انشا ء اللہ تعالیٰ۔پہلی پیشگوئی بالہام اللہ تعالیٰ وَ اِعْلَامِہٖ عَزَّوَجَلّ خدائے رحیم و کریم بزرگ و برتر جو ہریک چیز پر قادر ہے (جَلَّ شَانُہٗ وَ عَزَّ اِسْمُہٗ) مجھ کو اپنے الہام سے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا۔سو مَیں نے تیری تضرعات کو سُنا اور تیری دعائوں کواپنی رحمت سے بپایہئِ قبولیت جگہ دی اور تیرے سفر کو (جو ہوشیار پور اور لدھیانہ کا سفر ہے) تیرے لئے مبارک کر دیا۔سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح اور ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔اے مظفر تجھ پر سلام۔خدا نے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجہ سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں اور تا دینِ اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اور تاحق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آ جائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور تا لوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں۔جو