مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 125

چاہتا ہوں کرتا ہوں اور تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا اور خدا کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفیٰ ؐ کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ایک کھلی نشانی ملے اور مجرموں کی راہ ظاہر ہو جائے۔’’سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ایک زکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا۔وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذرّیت و نسل ہو گا۔خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔اس کا نام عنموائیل اور بشیر بھی ہے۔اس کو مقدس رُوح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے وہ نور اللہ ہے۔مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا وہ صاحب شکوہ اورعظمت اور دولت ہو گا۔وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور رُوح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔وہ کلمۃ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت و غیوری نے اسے اپنے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا اور وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا، (اس کے معنے سمجھ نہیں آئے) دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ۔فرزند دلبند گرامی ارجمند مَظْہَرُ الْاَوَّلِ وَ الْآخَرِ۔مَظْہَرُ الْحَقِّ وَالْعَـلَائِ کَاَنَّ اللّٰہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَآئِ۔جس کا نزول بہت مبارک اور جلالِ الٰہی کے ظہور کا موجب ہو گا۔نُور آتا ہے نُور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ہم اُس میں اپنی رُوح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہو گا۔وہ جلد جلد بڑھے گا۔اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہو گا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اُٹھایا جائے گا۔وَ کَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا۔‘‘ پھر خدائے کریم جَلَّشَانُہٗ نے مجھے بشارت دے کر کہا کہ تیرا گھر برکت سے بھرے گا۔اور میں اپنی نعمتیں تُجھ پر پُوری کروں گا اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس کے بعد پائے گا تیری نسل بہت ہو گی اور مَیں تیری ذُریّت کو بہت بڑھائوں گا اور برکت دوں گا۔مگر بعض اُن میں سے کم عمری میں فوت بھی ہوں گے اور تیری نسل کثرت سے ملکوں میں پھیل جائے گی اور ہر یک شاخ تیرے جدّی بھائیوں کی کاٹی جائے گی اور وہ جلد لَا وَلد رہ کر ختم ہو جائے گی۔اگر وہ توبہ نہ کریں گے تو