مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 107
جاری رکھتے۔اور مہذب اور شریف اور ہر ایک قوم کے عالم فاضل جو اکثر اس جگہ آتے رہتے ہیں ان پر بھی آپ کی بحثوں کی حقیقت کھلتی رہتی، مگر افسوس کہ آپ نے ایسا نہیں کیا بلکہ قادیان میں آنے کے لیے (کہ جو آپ کی نظر میں گویا ایک یا غستان ہے یا جس میں بزعم آپ کے ہندو بھائی آپ کے بکثرت نہیں رہتے) اوّل یہ شرط لگائی کہ یہ عاجز آپ کی حفاظت کے لیے گورنمنٹ میں مچلکہ داخل کرے۔ایسی شرط سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ اپنی بحث میں ایسی دُورازتہذیب گفتگو کرنا چاہتے ہیں جس کی نسبت آپ کو پہلے ہی خطرہ ہے کہ وہ فریق ثانی کے اشتعال طبع کا ضرور موجب ہو گی۔تب ہی تو آپ کو یہ فکر پڑی کہ پہلے فریق ثانی کا مچلکہ سرکار میں داخل ہونا چاہیے تا آپ کو ہر ایک طور کی تحقیر اور توہین کرنے کے لیے وسیع گنجائش رہے۔اب قصّہ کوتاہ یہ کہ یہ عاجز اس قسم کی بحثوں سے سخت بیزار ہے اور جس طور کی بحث کو یہ عاجز منظور رکھتا ہے وہ وہی ہے جو اس سے اوپر ذکر کی گئی۔اگر آپ طالبِ صادق ہیں تو آپ کو آپ کے پر میشر کی قسم دی جاتی ہے کہ آپ ہمارے مقابلہ سے ذرا کوتاہی نہ کریں۔آسمانی نشانوں کے دیکھنے کے لیے قادیان میں آ کر ایک سال تک ٹھہریں اور اس عرصہ میں جو کچھ وساوس عقلی طور پر آپ کے دل پر دامنگیر ہوں وہ بھی تحریری طور پر رفع کراتے جائیں۔پھر اگر ہم مغلوب رہے تو کس قدر فتح کی بات ہے کہ آپ کو چوبیس سو روپیہ نقد مل جائے گا اور اپنی قوم میں آپ بڑی نیک نامی حاصل کریں گے، لیکن اگر آپ ہی مغلوب ہو گئے تو آپ کو اسی جگہ قادیان میں مشرف باسلام ہونا پڑے گا۔اور اس بات کا فیصلہ کہ کون غالب یا کون مغلوب رہا بذریعہ ایسے ثالثوں کے ہو جائے گا کہ جو فریقین کے مذہب سے الگ ہوں۔اگر آپ قادیان میں ایک سال تک ٹھہرنے کی نیّت سے آویں تو ہم مراد آباد سے قادیان تک کل کرایہ آپ کا آپ کی خدمت میں بھیج دیں گے۔اور آپ کے لئے چوبیس سو روپیہ کسی بنک سرکاری میں داخل کیا جائے گا، مگر اس شرط سے کہ آپ بھی ہمیں اس بات کی پوری پوری تسلّی دیدیں کہ آپ بحالت مغلوبیت ضرور مسلمان ہو جائیں گے۔اور اگر اب بھی آپ نے بپابندی شرائط مذکورہ بالا آنے سے انکار کیا تو آپ خوب یاد رکھیں کہ یہ داغ ایسا نہیں ہے کہ جو پھر کسی حیلہ یا تدبیر سے دھویا جائے۔مگر ہمیں اُمید نہیں کہ آپ آئیں کیونکہ حقانیت