مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 105
منشی صاحب آپ انصافاً فرماویں کہ آپ کو ایسی تحریر سے کیا فائدہ ہوا۔کیا اس سے ثابت ہو گیا کہ ہم درحقیقت اپنے دعویٰ میں جھوٹے ہیں۔آپ نے یہ بھی خیال نہ کیا کہ ایک شخص کو اپنی تائید دعویٰ میں اس قدر اپنا صدق دکھلا رہا ہے کہ اگر کوئی اس کا جھوٹا ہونا ثابت کرے تو وہ چوبیس سو روپیہ نقد اس کو دیتا ہے اور آپ اس کی آزمائش دعویٰ سے تو کنارہ کش مگر یوں ہی اپنے مُنہ سے کہے جاتے ہیں کہ یہ شخص اپنے دعوے میں صادق نہیں ہے۔یہ کس قدر دور از انصاف و ایمانداری ہے۔آپ نے کچھ سوچا ہوتا کہ منصف لوگ آپ کو کیا کہیں گے!! رہا یہ الزام آپ کا کہ گویا اوّل ہم نے اپنے خط میں بحث کو منظور کیا اور پھر دوسرے خط میں نامنظوری ظاہر کی۔یہ بات بھی سرا سر آپ ہی کا ایجاد ہے۔اس عاجز کے بیان میں جس کو آپ نے کھینچ تان کر کچھ کا کچھ بنا لیا ہے۔کسی نوع کا اختلاف یا تناقض نہیں کیونکہ مَیں نے اپنے آخری خط میں جو مطبع صدیقی میں چھپا ہے جس کا آپ حوالہ دیتے ہیں۔کسی ایسی بحث سے ہرگز انکار نہیں کیا جس کی نسبت اپنے پہلے خط میں رضا مندی ظاہر کی تھی۔بلکہ اس آخری خط میں صرف یہ لکھا ہے کہ اگر آپ آسمانی نشانوں کے مشاہدہ کے لیے نہیں بلکہ صرف مباحثہ کے لیے آنا چاہتے ہیں تو اس امر سے میری خصوصیت نہیں۔مجرد بحثوں کے لیے اور علماء و فضلاء بہت ہیں۔تو اس تقریر سے انکار کہاں سمجھا جاتا ہے۔اس کا مطلب تو یہ ہے کہ ہمارا اصل کام اسلامی انوار و برکات کا دکھلانا ہے اور ایسے مطلب کے لیے رجسٹری شدہ خط بھیجے گئے تھے۔سو یہ ہمیں ہرگز منظور نہیں کہ اس اصل کام کو ملتوی اور موقوف کر کے اپنی خدمت دینی کو صرف مباحثات و مناظرات تک محدود رکھیں۔ہاں جو شخص اسلامی آیات و برکات کا دیکھنا منظور کر کے ساتھ اس کے عقلی طور پر اپنے شبہات اور وساوس کو دُور کرانا چاہے تو اس قسم کی بحث تو ہمیں بدل و جان منظور ہے بشرطیکہ تہذیب اور شائستگی سے تحریری طور پر بحث ہو۔جس میں عجلت اور شتاب کاری اور نفسانیت اور ہار جیت کے خیال کا کچھ دخل نہ ہو۔بلکہ ایک شخص طالب صادق بن کر محض حق جوئی اور راست بازی کی وضع پر اپنی عقدہ کشائی چاہے اور دوستانہ طور پر ایک سال تک آسمانی نشانوں کے دیکھنے کے لئے ٹھہر کر ساتھ اس کے نہایت معقولیت سے سلسلہ بحث کا