مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 100
مجموعه اشتہارات ۲۹ جلد اول اشتهار L منشی اندر من صاحب مراد آبادی نے میرے اس مطبوعہ خط جس کی ایک ایک کا پی غیر مذاہب کے رؤساء و مقتداؤں کے نام خاکسار نے روانہ کئے تھے۔ جس کے جواب میں پہلے نابھہ سے پھر لاہور سے یہ لکھا تھا کہ تم ہمارے پاس آؤ اور ہم سے مباحثہ کر لو۔ اور زرموعودہ اشتہار پیشگی بنک میں داخل کرو۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس کے جواب میں خاکسار نے رقیمہ ذیل معہ دو ہزار چار سو روپیہ نقد ایک جماعت اہلِ اسلام کے ذریعہ سے آپ کی خدمت میں روانہ لاہور کیا۔ جب وہ جماعت منشی صاحب کے مکان موعود پر پہنچی تو منشی صاحب کو نہ پایا۔ وہاں سے اُن کو معلوم ہوا کہ جس دن منشی صاحب نے خاکسار کے نام وہ خط روانہ کیا تھا اُسی دن سے وہ فرید کوٹ تشریف لے گئے ہوئے ہیں ۔ باوجو یکہ اس خط میں منشی صاحب نے ایک ہفتہ تک منتظر جواب رہنے کا وعدہ تحریری لکھا تھا۔ یہ امر نہایت تعجب اور تردد کا موجب ہوا ۔ لہذا یہ قرار پایا کہ اس رقیمہ کو بذریعہ اشتہار مشتہر کیا جاوے۔ اور اُس کی ایک کا پی منشی صاحب کے نام حسب نشان مکان موجودہ بذریعہ رجسٹری روانہ کی جاوے۔ وہ یہ ہے:۔ مشفقی اندر من صاحب! میرے اس خط کا جواب نہیں دیا۔ ایک نئی بات لکھی ہے جس کی تعمیل مجھ پر اپنے عہد کے رُو سے واجب نہیں ہے۔ میری طرف سے یہ عہد تھا کہ جو شخص میرے پاس آوے اور صدق دل سے ایک ے یہ خط جلد ھذا کے صفحہ ۲۶ پر ہے ۔ (مرتب) دراصل ” موعودہ لفظ ہے۔ کا تب کی غلطی سے الحکم میں ” موجودہ “ لکھا گیا ۔ (مؤلف)