مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 91

مجموعه اشتہارات ۹۱ جلد اول کے پرچہ مشمولہ میں انگریزی گورنمنٹ کا شکر ادا کیا ہے وہ صرف اپنے ذاتی خیال سے ادا نہیں کیا بلکہ قرآن شریف واحادیث نبوی کی ان بزرگ تاکیدوں نے جو اس عاجز کے پیش نظر ہیں مجھ کو اس شکر ادا کرنے پر مجبور کیا ہے۔ سو ہمارے بعض نا سمجھ بھائیوں کی یہ افراط ہے جس کو وہ اپنی کو تہ اندیشی اور بخل فطرتی سے اسلام کا جز سمجھ بیٹھے ہیں۔ سے اے جفا کیش نہ عذر است طریق عشاق ہرزہ بدنام کنی چند نکونامے رائی اور جیسا کہ ہم نے ابھی اپنے بعض بھائیوں کی افراط کا ذکر کیا ہے ایسا ہی بعض ان میں سے تفریط کی مرض میں بھی مبتلا ہیں اور دین سے کچھ غرض واسطہ ان کا نہیں رہا۔ بلکہ ان کے خیالات کا تمام زور دنیا کی طرف لگ رہا ہے۔ مگر افسوس کہ دنیا بھی ان کو نہیں ملتی ۔ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْعَاقِبَةِ بن رہے ہیں۔ اور کیونکر ملے۔ دین تو ہاتھ سے گیا اور دنیا کمانے کے لئے جولیاقتیں ہونی چاہئیں وہ حاصل نہیں کیں ۔ صرف شیخ چلی کی طرح دنیا کے خیالات دل میں بھرے ہیں اور جس لکیر پر چلنے سے دنیا ملتی ہے اس پر قدم نہ رکھا۔ اور اس کے مناسب حال اپنے تئیں نہ بنایا۔ سواب ان کا یہ حال ہے کہ نہ ادھر کے رہے اور نہ اُدھر کے رہے۔ انگریز جو انہیں نیم وحشی کہتے ہیں یہ بھی ان کا احسان ہی سمجھئے ورنہ اکثر مسلمان وحشیوں سے بھی بدتر نظر آتے ہیں۔ نہ عقل رہی نہ ہمت رہی نہ غیرت رہی نہ محبت رہی ۔ فی الحقیقت یہ سچ ہے کہ جس قدر ان کے ہمسائیوں آریوں کی نظر میں ایک ادنی حیوان گائے کی عزت اور توقیر ہے ان کے دلوں میں اپنی قوم اور اپنے بھائیوں اور اپنے سچے دین کی مہمات کی اس قدر بھی عزت نہیں ۔ کیونکہ ہم ہمیشہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ اولوالعزم قوم آریہ گائے کی عزت قائم رکھنے کے لئے اس قدر کوششیں کر کے لکھوکھہا روپیہ جمع کر لیتے ہیں کہ مسلمان لوگ اللہ اور رسول کی عزت ظاہر کرنے کے لئے اس کا ہزارم حصہ بھی جمع نہیں کر سکتے بلکہ جہاں کہیں اعانت دینی کا ذکر آیا تو وہیں عورتوں کی طرح اپنا مونہہ چھپا لیتے ہیں۔ اور آریہ قوم کی اولوالعزمی غور کرنے سے اور بھی زیادہ ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ گائے کی جان بچانے کے لئے کوشش کرنا حقیقت میں ان کے مذہب کے رو ا ترجمہ۔ اے ظالم عذر کرنا عاشقوں کا شیوہ نہیں۔ تو فضول چند نیک نام لوگوں ( عاشقوں ) کو بدنام کر رہا ہے۔