مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 90 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 90

موجب ہوں گے بلکہ یہ بھی یقیناً خیال کیا جاتا ہے کہ اگر کوئی دن ایسا ہی ان کا حال رہا۔تو ان کے ہاتھ سے سخت ضرر اسلام کو پہنچے گا۔اور ان کے ذریعہ سے بیرونی مفسد مخالف بہت سا موقعہ نکتہ چینی اور فساد انگیزی کا پائیں گے۔آج کل کے بعض علماء پر ایک یہ بھی افسوس ہے کہ وہ اپنے بھائیوں پر اعتراض کرنے میں بڑی عجلت کرتے ہیں۔اور قبل اس کے جو اپنے پاس علم صحیح قطعی موجود ہے اپنے بھائی پر حملہ کرنے کو طیّار ہوجاتے ہیں۔اور کیونکر طیّار نہ ہوں بباعث غلبہ نفسانیت یہ بھی تو مدنظر ہوتا ہے کہ کسی طرح ایک مسلمان کو کہ جو مقابل پر نظر آرہا ہے نابود کیا جائے۔اور اس کو شکست اور ذلت اور رسوائی پہنچے اور ہماری فتح اور فضیلت ثابت ہو۔یہی و جہ ہے کہ بات بات میں ان کو فضول جھگڑے کرنے پڑتے ہیں۔خدا نے یکلخت ان سے عجز اور فروتنی اور حسن ظن اور محبت برادرانہ کو اٹھالیا۔اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔تھوڑا عرصہ گزرا ہے کہ بعض صاحبوں نے مسلمانوں میں سے اس مضمون کی بابت کہ جو حصہ سوم کے ساتھ گورنمنٹ انگریزی کے شکر کے بارے میں شامل ہے اعتراض کیا اور بعض نے خطوط بھی بھیجے اور بعض نے سخت اور درشت لفظ بھی لکھے کہ انگریزی عملداری کو دوسری عملداریوں پر کیوں ترجیح دی۔لیکن ظاہر ہے کہ جس سلطنت کو اپنی شائستگی اور حسن انتظام کے رو سے ترجیح ہو۔اس کو کیونکر چھپا سکتے ہیں۔خوبی باعتبار اپنی ذاتی کیفیت کے خوبی ہی ہے گو وہ کسی گورنمنٹ میں پائی جائے۔اَلْحِکْمَۃُ ضَآلَّۃُ الْمُؤْمِنِ۔الخ۔اور یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اسلام کا ہرگز یہ اصول نہیں ہے کہ مسلمانوں کی قوم جس سلطنت کے ماتحت رہ کر اس کا احسان اٹھاوے اس کے ظِلِّ حمایت میں بامن و آسائش رہ کر اپنا رزق مقسوم کھاوے۔اس کے انعامات متواترہ سے پرورش پاوے پھر اسی پر عقرب کی طرح نیش چلاوے۔اور اس کے سلوک اور مروّت کا ایک ذرہ شکر نہ بجا لاوے۔بلکہ ہم کو ہمارے خداوند کریم نے اپنے رسول مقبول کے ذریعہ سے یہی تعلیم دی ہے کہ ہم نیکی کا معاوضہ بہت زیادہ نیکی کے ساتھ کریں اور منعم کا شکر بجالاویں۔اور جب کبھی ہم کو موقعہ ملے تو ایسی گورنمنٹ سے بدلی صدق کمال ہمدردی سے پیش آویں اور بہ طیبِ خاطر معروف اور واجب طور پر اطاعت اٹھاویں۔سو اس عاجز نے جس قدر حصہ