مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 89 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 89

 مسلمانوں کی نازک حالت اور انگریزی گورنمنٹ ترسم کہ بہ کعبہ چوں روی ۱؎ ا ے اعرابی کیں رہ کہ تومی روی بترکستان است۲؎ آج کل ہمارے دینی بھائیوں مسلمانوں نے دینی فرائض کے ادا کرنے اور اخوت اسلامی کے بجالانے اور ہمدردی قومی کے پورا کرنے میں اس قدر سُستی اور لاپروائی اور غفلت کررکھی ہے کہ کسی قوم میں اس کی نظیر نہیں پائی جاتی۔بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ان میں ہمدردی قومی اور دینی کا مادہ ہی نہیں رہا۔اندرونی فسادوں اور عنادوں اور اختلافوں نے قریب قریب ہلاکت کے ان کو پہنچا دیا ہے اور افراط تفریط کی بے جا حرکات نے اصل مقصود سے ان کو بہت دور ڈال دیا ہے جس نفسانی طرز سے ان کی باہمی خصومتیں برپا ہورہی ہیں۔اس سے نہ صرف یہی اندیشہ ہے کہ ان کا بے اصل کینہ دن بدن ترقی کرتا جائے گا اور کیڑوں کی طرح بعض کو بعض کھائیں گے اور اپنے ہاتھ سے اپنے استیصال کے ۱؎ غالباً سہو کتابت ہے صحیح لفظ ’’رسی‘‘ ہے اور یہ سعدی کا شعر ہے۔(ناشر) ۲؎ ترجمہ۔اے (عرب کے) بدّو ! مجھے خدشہ ہے کہ تو کس طرح کعبہ تک پہنچے گا کیونکہ جس راستہ پر تو چل رہا ہے وہ تو ترکستان کو جاتا ہے۔