مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 86
کرنے کے لئے وعظ ہوسکتا ہے۔اور جن تقریبات سے علماء اسلام کو ترویجِ دین کے لئے اس گورنمنٹ میں جوش پیدا ہوتے ہیں اور فکر اور نظر سے اعلیٰ درجہ کا کام لینا پڑتا ہے اور عمیق تحقیقاتوں سے تائید دین متین میں تالیفات ہوکر حجت اسلام مخالفین پر پوری کی جاتی ہے وہ میری دانست میں آج کل کسی اور ملک میں ممکن نہیں۔یہی سلطنت ہے جس کی عادلانہ حمایت سے علماء کو مدتوں کے بعد گویا صدہا سال کے بعد یہ موقعہ ملا کہ بے دھڑک بدعات کی آلودگیوں سے اور شرک کی خرابیوں سے اور مخلوق پرستی کے فسادوں سے نادان لوگوں کو مطلع کریں اور اپنے رسول مقبول کا صراط مستقیم کھول کر ان کو بتلاویں۔کیا ایسی سلطنت کی بدخواہی جس کے زیر سایہ تمام مسلمان امن اور آزادی سے بسر کرتے ہیں اور فرائض دین کو کماحقہ بجا لاتے ہیں اور ترویج دین میں سب ملکوں سے زیادہ مشغول ہیں جائز ہوسکتی ہے۔حَاشَا وَکَلَّا ہرگز جائز نہیں۔اور نہ کوئی نیک اور دیندار آدمی ایسا بدخیال دل میں لاسکتا ہے۔ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ دنیا میں آج یہی ایک سلطنت ہے جس کے سایہ عاطفت میں بعض بعض اسلامی مقاصد ایسے حاصل ہوتے ہیں کہ جو دوسرے ممالک میں ہرگز ممکن الحصول نہیں۔شیعوں کے ملک میں جائو تو وہ سنت جماعت کے وعظوں سے افروختہ ہوتے ہیں۔اور سنت جماعت کے ملکوں میں شیعہ اپنی رائے ظاہر کرنے سے خائف ہیں۔ایسا ہی مقلدین موحدین کے شہروں میں اور موحدین مقلدین کے بلاد میں دم نہیں مارسکتے۔اور گو کسی بدعت کو اپنی آنکھ سے دیکھ لیں منہ سے بات نکالنے کا موقعہ نہیں رکھتے۔آخر یہی سلطنت ہے جس کی پناہ میں ہریک فرقہ امن اور آرام سے اپنی رائے ظاہر کرتا ہے۔اور یہ بات اہلِ حق کے لئے نہایت ہی مفید ہے۔کیونکہ جس ملک میں بات کرنے کی گنجائش ہی نہیں۔نصیحت دینے کا حوصلہ ہی نہیں۔اس ملک میں کیونکر راستی پھیل سکتی ہے۔راستی پھیلانے کے لئے وہی ملک مناسب ہے جس میں آزادی سے اہل حق وعظ کرسکتے ہیں۔یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ دینی جہادوں سے اصلی غرض آزادی کا قائم کرنا اور ظلم کا دور کرنا تھا۔اور دینی جہاد انہیں ملکوں کے مقابلہ پر ہوئے تھے جن میں واعظین کو اپنے وعظ کے وقت جان کا اندیشہ تھا۔اور جن میں امن کے ساتھ وعظ ہونا قطعی محال تھا۔اور کوئی شخص طریقہ حقہ کو اختیار کرکے اپنی قوم کے ظلم سے محفوظ نہیں رہ سکتا تھا۔لیکن سلطنت انگلشیہ