مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 85
گورنمنٹ میں اور باقی نسخہ جات متفرق مواضع پنجاب و ہندوستان خاص کر سرحدی ملکوں میں تقسیم کئے جائیں۔یہ سچ ہے کہ بعض غمخوار مسلمانوں نے ڈاکٹر ہنٹر صاحب کے خیالات کا رد لکھا ہے۔مگر یہ دوچار مسلمانوں کا رد جمہوری رد کا ہرگز قائم مقام نہیں ہوسکتا۔بلاشبہ جمہوری رد کا اثر ایسا قوی اور پرزور ہوگا جس سے ڈاکٹر صاحب کی تمام غلط تحریریں خاک سے مل جائیں گی اور بعض ناواقف مسلمان بھی اپنے سچے اور پاک اصول سے بخوبی مطلع ہوجائیں گے اور گورنمنٹ انگلشیہ پر بھی صاف باطنی مسلمانوں کی اور خیر خواہی اس رعیت کی کماحقہ کھل جائے گی اور بعض کوہستانی جہلاء کے خیالات کی اصلاح بھی بذریعہ اسی کتاب کی وعظ اور نصیحت کے ہوتی رہے گی۔بالآخر یہ بات بھی ظاہر کرنا ہم اپنے نفس پر واجب سمجھتے ہیں کہ اگرچہ تمام ہندوستان پر یہ حق واجب ہے کہ بنظر ان احسانات کے کہ جو سلطنت انگلشیہ سے اس کی حکومت اور آرام بخش حکمت کے ذریعہ سے عامہ خلائق پر وارد ہیں۔سلطنت ممدوحہ کو خداوند تعالیٰ کی ایک نعمت سمجھیں اور مثل اور نعماء الٰہی کے اس کا شکر بھی ادا کریں۔لیکن پنجاب کے مسلمان بڑے ناشکر گزار ہوں گے اگر وہ اس سلطنت کو جو ان کے حق میں خدا کی ایک عظیم الشان رحمت ہے نعمت عظمیٰ یقین نہ کریں۔ان کو سوچنا چاہئے کہ اس سلطنت سے پہلے وہ کس حالت پر ملالت میں تھے اور پھر کیسے امن و امان میں آگئے۔پس فی الحقیقت یہ سلطنت ان کیلئے ایک آسمانی برکت کا حکم رکھتی ہے جسکے آنے سے سب تکلیفیں ان کی دور ہوئیں اور ہریک قسم کے ظلم اور تعدی سے نجات حاصل ہوئی اور ہریک ناجائز روک اور مزاحمت سے آزادی میسر آئی۔کوئی ایسا مانع نہیں کہ جو ہم کو نیک کام کرنے سے روک سکے یا ہماری آسائش میں خلل ڈال سکے۔پس حقیقت میں خداوند کریم و رحیم نے اس سلطنت کو مسلمانوں کے لئے ایک باران رحمت بھیجا ہے جس سے پودہ اسلام کا پھر اس ملک پنجاب میں سرسبز ہوتا جاتا ہے اور جس کے فوائد کا اقرار حقیقت میں خدا کے احسانوں کا اقرار ہے۔یہی سلطنت ہے جس کی آزادی ایسی بدیہی اور مسلّم الثبوت ہے کہ بعض دوسرے ملکوں سے مظلوم مسلمان ہجرت کرکے اس ملک میں آنا بدل و جان پسند کرتے ہیں۔جس صفائی سے اس سلطنت کے ظل حمایت میں مسلمانوں کی اصلاح کیلئے اور ان کی بدعات مخلوطہ دور