مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 84
کرکے اور پچاس مضبوط اور لائق سپاہی بہم پہنچا کر سرکار میں بطور مدد کے نذر کی اور اپنی غریبانہ حالت سے بڑھ کر خیر خواہی دکھلائی۔اور جو مسلمان لوگ صاحب دولت و ملک تھے۔انہوں نے تو بڑے بڑے خدمات نمایاں ادا کئے۔اب پھر ہم اس تقریر کی طرف متوجہ ہوتے ہیں کہ گو مسلمانوں کی طرف سے اخلاص اور وفاداری کے بڑے بڑے نمونہ ظاہر ہوچکے ہیں مگر ڈاکٹر صاحب نے مسلمانوں کی بدنصیبی کی و جہ سے ان تمام وفاداریوں کو نظر انداز کردیا اور نتیجہ نکالنے کے وقت ان مخلصانہ خدمات کو نہ اپنے قیاس کے صغریٰ میں جگہ دی اور نہ کبریٰ میں۔بہرحال ہمارے بھائی مسلمانوں پر لازم ہے کہ گورنمنٹ پر اُن کے دھوکوں سے متاثر ہونے سے پہلے مجدد طور پر اپنی خیر خواہی ظاہر کریں۔جس حالت میں شریعتِ اسلام کا یہ واضح مسئلہ ہے جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ ایسی سلطنت سے لڑائی اور جہاد کرنا جس کے زیر سایہ مسلمان لوگ امن اور عافیت اور آزادی سے زندگی بسر کرتے ہوں۔اور جس کے عطیات سے ممنون منت اور مرہون احسان ہوں۔اور جس کی مبارک سلطنت حقیقت میں نیکی اور ہدایت پھیلانے کے لئے کامل مددگار ہو۔قطعی حرام ہے۔تو پھر بڑے افسوس کی بات ہے کہ علمائے اسلام اپنے جمہوری اتفاق سے اس مسئلہ کو اچھی طرح شائع نہ کرکے ناواقف لوگوں کی زبان اور قلم سے مورد اعتراض ہوتے رہیں۔جن اعتراضوں سے ان کے دین کی سُستی پائی جائے۔اور ان کی دنیا کو ناحق کا ضرر پہنچے۔سو اس عاجز کی دانست میں قرین مصلحت یہ ہے کہ انجمن اسلامیہ لاہور و کلکتہ و بمبئی وغیرہ یہ بندوبست کریں کہ چند نامی مولوی صاحبان جن کی فضیلت اور علم اور زہد اور تقویٰ اکثر لوگوں کی نظر میں مسلّم الثبوت ہو۔اس امر کے لئے چن لئے جائیں کہ اطراف اکناف کے اہلِ علم کہ جو اپنے مسکن کے گرد ونواح میں کسی قدر شہرت رکھتے ہوں اپنی اپنی عالمانہ تحریریں جن میں برطبق شریعت حقہ سلطنت انگلشیہ سے جو مسلمانان ہند کی مربی و محسن ہے جہاد کرنے کی صاف ممانعت ہو۔ان علماء کی خدمت میں بہ ثبت مواہیر بھیج دیں کہ بموجب قرارداد بالا اس خدمت کے لئے منتخب کئے گئے ہیں۔اور جب سب خطوط جمع ہوجائیں تو یہ مجموعہ خطوط کہ جو مکتوبات علماء ہند سے موسوم ہوسکتا ہے۔کسی خوشخط مطبع میں بہ صحت تمام چھاپا جائے اور پھر دس بیس نسخہ اس کے