عشق رسول ﷺ کا صحیح اظہار — Page 16
ایسی خوبصورت عورت ہم نے زندگی میں نہیں دیکھی۔اُس کے باپ کی خواہش پر آپ نے اُس سے پانچ صد در ہم حق مہر پر نکاح کر لیا۔جب آپ اُس کے پاس گئے تو اُس نے کہا کہ میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہیں کر فرمایا کہ تم نے ایک بہت عظیم پناہ گاہ کی پناہ طلب کی ہے اور باہر آگئے اور اپنے ایک صحابی ابواسید کوفرمایا کہ اس کو اس کے گھر والوں کے پاس چھوڑ آؤ۔اور پھر یہ بھی تاریخ میں ہے کہ اس شادی پر اُس کے گھر والے بڑے خوش تھے کہ ہماری بیٹی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں آئی لیکن واپس آنے پر وہ سخت ناراض ہوئے اور اُسے بہت برا بھلا کہا۔(ماخوذ از الطبقات الکبریٰ لا بن سعد الجزء الثامن صفحہ 318-319 ذکر من تزوج رسول الله ال م / اسماء بنت النعمان - دار احیاء التراث العربی بیروت 1996) تو یہ وہ عظیم ہستی ہے جس پر گھناؤنے الزام عورت کے حوالے سے لگائے جاتے ہیں۔جس کا بیویاں کرنا بھی اس لئے تھا کہ خدا تعالیٰ کا حکم تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو لکھا ہے اگر بیویاں نہ ہوتیں، اولاد نہ ہوتی اور جو اولاد کی وجہ سے ابتلا آئے اور جن کا جس طرح اظہار کیا اور پھر جس طرح بیویوں سے حسن سلوک ہے ، خُلق ہے، یہ کس طرح قائم ہو، اس کے نمونے کس طرح قائم ہو کے ہمیں پتہ چلتے۔ہر عمل آپ کا خدا کی رضا کے لئے ہوتا تھا۔(ماخوذ از چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ نمبر 300) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں الزام ہے کہ وہ بہت لاڈلی تھیں اور پھر عمر کے حساب سے بھی بڑی غلط باتیں کی جاتی ہیں۔لیکن عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آپ یہ فرماتے ہیں کہ بعض راتوں میں میں ساری رات اپنے خدا کی عبادت کرنا چاہتا ہوں جو مجھے سب سے زیادہ مجھے پیارا ہے۔(الدر المنثور فی التفسیر بالماثور لامام السيوطى سورة الدخان زیر آیت نمبر 4 جلد 7 صفحہ 350 دار احیاء التراث العربی بیروت 2001ء) پس جن کے دماغوں میں غلاظتیں بھری ہوئی ہوں انہوں نے یہ الزام لگانے ہیں اور لگاتے رہے ہیں، آئندہ بھی شاید وہ ایسی حرکتیں کرتے رہیں، جیسے کہ میں پہلے بھی ذکر کر چکا 16