عشق رسول ﷺ کا صحیح اظہار

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 2 of 24

عشق رسول ﷺ کا صحیح اظہار — Page 2

اس بات کا صحیح ادراک رکھتا ہے یا نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی مقام کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے لئے مرنے کٹنے پر تیار ہو جاتا ہے۔دشمنان اسلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو بیہودہ اور لغو فلم بنائی ہے اور جس ظالمانہ طور پر اس فلم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اہانت کا اظہار کیا گیا ہے اس پر ہر مسلمان کا غم اور غصہ ایک قدرتی بات ہے۔وہ محسن انسانیت، رحمت للعالمین اور اللہ تعالیٰ کا محبوب جس نے اپنی راتوں کو بھی مخلوق کے غم میں جگایا، جس نے اپنی جان کو مخلوق کو تباہ ہونے سے بچانے کے لئے اس درد کا اظہار کیا اور اس طرح غم میں اپنے آپ کو مبتلا کیا کہ عرش کے خدا نے آپ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ کیا تو ان لوگوں کے لئے کہ کیوں یہ اپنے پیدا کرنے والے رب کو نہیں پہچانتے ، ہلاکت میں ڈال لے گا ؟ اس عظیم محسنِ انسانیت کے بارے میں ایسی اہانت سے بھری ہوئی فلم پر یقینا ایک مسلمان کا دل خون ہونا چاہئے تھا اور ہوا اور سب سے بڑھ کر ایک احمدی مسلمان کو تکلیف پہنچی کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق اور غلام صادق کے ماننے والوں میں سے ہیں۔جس نے ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم مقام کا ادراک عطا فرمایا۔پس ہمارے دل اس فعل پر چھلنی ہیں۔ہمارے جگر کٹ رہے ہیں۔ہم خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہیں کہ ان ظالموں سے بدلہ لے۔انہیں وہ عبرت کا نشان بنا جو رہتی دنیا تک مثال بن جائے۔ہمیں تو زمانے کے امام نے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اس طرح اور اک عطا فرمایا ہے کہ جنگل کے سانپوں اور جانوروں سے صلح ہو سکتی ہے لیکن ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت خاتم الانبیاء کی توہین کرنے والے اور اُس پر ضد کرتے چلے جانے والے سے ہم صلح نہیں کر سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : مسلمان وہ قوم ہے جو اپنے نبی کریم کی عزت کے لئے جان دیتے ہیں۔اور وہ اس بے عزتی سے مرنا بہتر سمجھتے ہیں کہ ایسے شخصوں سے دلی صفائی کریں اور اُن کے دوست بن جائیں جن کا کام دن رات یہ ہے کہ وہ اُن کے رسول کریم 2