عشق رسول ﷺ کا صحیح اظہار — Page 3
صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں اور اپنے رسالوں اور کتابوں اور اشتہاروں میں نہایت تو ہین سے اُن کا نام لیتے ہیں اور نہایت گندے الفاظ سے اُن کو یاد کرتے ہیں“۔آپ فرماتے ہیں کہ یا درکھیں کہ ایسے لوگ اپنی قوم کے بھی خیر خواہ نہیں ہیں کیونکہ وہ اُن کی راہ میں کانٹے ہوتے ہیں۔اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر ہم جنگل کے سانپوں اور بیابانوں کے درندوں سے صلح کر لیں تو یہ ممکن ہے۔مگر ہم ایسے لوگوں سے صلح نہیں کر سکتے جو خدا کے پاک نبیوں کی شان میں بد گوئی سے باز نہیں آتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ گالی اور بدزبانی میں ہی فتح ہے۔مگر ہر ایک فتح آسمان سے آتی ہے۔فرمایا کہ ” پاک زبان لوگ اپنی پاک کلام کی برکت سے انجام کار دلوں کو فتح کر لیتے ہیں۔مگر گندی طبیعت کے لوگ اس سے زیادہ کوئی ہنر نہیں رکھتے کہ ملک میں مفسدانہ رنگ میں تفرقہ اور پھوٹ پیدا کرتے ہیں۔فرمایا کہ تجربہ بھی شہادت دیتا ہے کہ ایسے بد زبان لوگوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔خدا کی غیرت اُس کے اُن پیاروں کے لئے آخر کوئی کام دکھلا دیتی ہے۔چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 385 تا 387) اس زمانے میں اخباروں اور اشتہاروں کے ساتھ میڈیا کے دوسرے ذرائع کو بھی اس بیہودہ چیز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔پس یہ لوگ جو اپنی ضد کی وجہ سے خدا تعالیٰ سے مقابلہ کر رہے ہیں، انشاء اللہ تعالیٰ اُس کی پکڑ میں آئیں گے۔یہ ضد پر قائم ہیں اور ڈھٹائی سے اپنے ظالمانہ فعل کا اظہار کرتے چلے جارہے ہیں۔2006ء میں جب ڈنمارک کے خبیث الطبع لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بیہودہ تصویریں بنائی تھیں تو اُس وقت بھی میں نے جہاں جماعت کو صحیح ردعمل دکھانے کی طرف توجہ دلائی تھی وہاں یہ بھی کہا تھا کہ یہ ظالم لوگ پہلے بھی پیدا ہوتے رہے ہیں اور 3