عشق رسول ﷺ کا صحیح اظہار

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 18 of 24

عشق رسول ﷺ کا صحیح اظہار — Page 18

اُس روز سے کہ انسان پیدا ہوا ایسی تباہی کبھی نہیں آئی ہوگی۔اور اکثر مقامات زیروز بر ہو جائیں گے کہ گویا اُن میں کبھی آبادی نہ تھی۔اور اس کے ساتھ اور بھی آفات زمین و آسمان میں ہولناک صورت میں پیدا ہوں گی یہانتک کہ ہر ایک عقلمند کی نظر میں وہ باتیں غیر معمولی ہو جائیں گی اور ہیئت اور فلسفہ کی کتابوں کے کسی صفحہ میں اُن کا پتہ نہیں ملے گا۔تب انسانوں میں اضطراب پیدا ہوگا کہ یہ کیا ہونے والا ہے۔اور بہتیرے نجات پائیں گے اور بہتیرے ہلاک ہو جائیں گے۔وہ دن نزدیک ہیں بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ دروازے پر ہیں کہ دنیا ایک قیامت کا نظارہ دیکھے گی اور نہ صرف زلزلے بلکہ اور بھی ڈرانے والی آفتیں ظاہر ہوں گی ، کچھ آسمان سے اور کچھ زمین سے۔یہ اس لئے کہ نوع انسان نے اپنے خدا کی پرستش چھوڑ دی ہے اور تمام دل اور تمام ہمت اور تمام خیالات سے دنیا پر ہی گر گئے ہیں۔اگر میں نہ آیا ہوتا تو ان بلاؤں میں کچھ تاخیر ہو جاتی پر میرے آنے کے ساتھ خدا کے غضب کے وہ مخفی ارادے جو ایک بڑی مدت سے مخفی تھے ظاہر ہو گئے۔جیسا کہ خدا نے فرمایا وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَكَ رَسُولاً ( بنی اسرائیل : 16 )۔اور تو بہ کرنے والے امان پائیں گے۔اور وہ جو بلا سے پہلے ڈرتے ہیں اُن پر رحم کیا جائے گا۔کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم ان زلزلوں سے امن میں رہو گے یا تم اپنی تدبیروں سے اپنے تئیں بچا سکتے ہو؟ ہرگز نہیں۔انسانی کاموں کا اُس دن خاتمہ ہوگا۔یہ مت خیال کرو کہ امریکہ وغیرہ میں سخت زلزلے آئے اور تمہارا ملک اُن سے محفوظ ہے۔۔۔اسے یورپ ! تُو بھی امن میں نہیں۔اور اے ایشیا ! تو بھی محفوظ نہیں۔اور اے جزائر کے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔وہ واحد یگانہ ایک مدت تک خاموش رہا اور اُس 18