عشق رسول ﷺ کا صحیح اظہار

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 4 of 24

عشق رسول ﷺ کا صحیح اظہار — Page 4

اس پر بس نہیں ہو گی۔اس احتجاج وغیرہ سے کوئی فرق نہیں پڑے گا جو اب مسلمانوں کی طرف سے ہو رہا ہے بلکہ آئندہ بھی یہ لوگ ایسی حرکات کرتے رہیں گے۔اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ اُس سے بڑھ کر یہ بیہودگی اور ظلم پر اتر آئے ہیں اور اُس وقت سے آہستہ آہستہ اس طرف ان کا یہ طریق بڑھتا ہی جارہا ہے۔پس یہ ان کی اسلام کے مقابل پر ہزیمت اور شکست ہے جو ان کو آزادی خیال کے نام پر بیہودگی پر آمادہ کر رہی ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ یا درکھیں کہ یہ لوگ اپنی قوم کے بھی خیر خواہ نہیں ہیں۔یہ بات ایک دن ان قوموں کے لوگوں پر بھی کھل جائے گی۔ان پر واضح ہو جائے گا کہ آج جو کچھ بیہودہ گوئیاں یہ کر رہے ہیں، وہ ان کی قوم کے لئے نقصان دہ ہے کہ یہ لوگ خود غرض اور ظالم ہیں۔ان کو صرف اپنی خواہشات کی تکمیل کے علاوہ کسی بات سے سروکار نہیں ہے۔اس وقت تو آزادی اظہار کے نام پر سیاستدان بھی اور دوسرا طبقہ بھی بعض جگہ کھل کر اور اکثر دبے الفاظ میں ان کے حق میں بھی بول رہا ہے اور بعض دفعہ مسلمانوں کے حق میں بھی بول رہا ہے۔لیکن یا درکھیں کہ اب دنیا ایک ایسا گلوبل و پیج بن چکی ہے کہ اگر کھل کر برائی کو برائی نہ کہا گیا تو یہ باتیں ان ملکوں کے امن و سکون کو بھی برباد کر دیں گی اور خدا کی لاٹھی جو چلنی ہے وہ علیحدہ ہے۔امام الزمان کی یہ بات یادرکھیں کہ ہر فتح آسمان سے آتی ہے اور آسمان نے یہ فیصلہ کر چھوڑا ہے کہ جس رسول کی تم ہتک کرنے کی کوشش کر رہے ہو اُس نے دنیا پر غالب آنا ہے۔اور غالب، جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا، دلوں کو فتح کر کے آنا ہے۔کیونکہ پاک کلام کی تاثیر ہوتی ہے۔پاک کلام کو ضرورت نہیں ہے کہ شدت پسندی کا استعمال کیا جائے یا بیہودہ گوئی کا بیہودہ گوئی سے جواب دیا جائے۔اور یہ بد کلامی اور بد نوائی جو ان لوگوں نے شروع کی ہوئی ہے، یہ انشاء اللہ تعالیٰ جلد ختم ہو جائے گی۔اور پھر اس زندگی کے بعد ایسے لوگوں سے خدا تعالیٰ نبٹے گا۔4