عشق رسول ﷺ کا صحیح اظہار

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 14 of 24

عشق رسول ﷺ کا صحیح اظہار — Page 14

(الشفاء لقاضی عیاض جزء اول صفحه 74 الباب الثانى فى تكميل الله تعالى۔۔۔الفصل و اما الحلم۔۔۔دار الكتب العلمية بيروت 2002ء) تو یہ ہے وہ صبر و برداشت کا مقام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا اور جو اپنوں سے نہیں دشمنوں سے بھی تھا۔یہ ہیں وہ اعلیٰ اخلاق ان میں جود وسخا بھی ہے اور صبر و برداشت بھی اور وسعت حوصلہ کا اظہار بھی ہے۔یہ اعتراض کرنے والے جاہل بغیر علم کے اُٹھتے ہیں اور اُس رحمتہ للعالمین پر اعتراض کر دیتے ہیں کہ انہوں نے یہ تختی کی تھی اور فلاں تھا اور فلاں تھا۔پھر قرآن کریم پر اعتراض ہے۔یہ بھی سنا ہے کہ اس فلم میں لگایا گیا ہے۔میں نے دیکھی تو نہیں لیکن میں نے یہ لوگوں سے سنا ہے کہ یہ قرآن کریم بھی حضرت خدیجہ کے جو چا زاد بھائی تھے ، ورقہ بن نوفل، جن کے پاس حضرت خدیجہ آپ کو پہلی وحی کے بعد لے کر گئی تھیں انہوں نے لکھ کر دیا تھا۔کفار تو آپ کی زندگی میں بھی یہ اعتراض کرتے رہے کہ یہ قرآن جو تم قسطوں میں اتار رہے ہو اگر یہ اللہ کا کلام ہے تو یکدم کیوں نہیں اترا؟ لیکن یہ بیچارے بالکل ہی بے علم ہیں بلکہ تاریخ سے بھی نابلد۔بہر حال جو بنانے والے ہیں وہ تو ایسے ہی ہیں لیکن دو پادری جو اُن میں شامل ہیں جو اپنے آپ کو علمی سمجھتے ہیں وہ بھی علمی لحاظ سے بالکل جاہل ہیں۔ورقہ بن نوفل نے تو یہ کہا تھا کہ کاش میں اُس وقت زندہ ہوتا جب تجھے تیری قوم وطن سے نکالے گی اور کچھ عرصے بعد اُن کی وفات بھی ہوگئی۔(صحیح البخاری کتاب بدء الوحی باب 3 حدیث نمبر (3) پھر یہ جو پادری ہیں جیسا کہ میں نے کہا تاریخ اور حقائق سے بالکل ہی نابلد ہیں۔جو مستشرقین ہیں وہ قرآن کے بارے میں اس بحث میں ہمیشہ پڑے رہے کہ یہ سورۃ کہاں اُتری اور وہ سورۃ کہاں اتری۔مدینہ میں نازل ہوئی یا مکہ میں؟ اس بات پر بھی بحث کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اُس نے لکھ کر دے دیا تھا۔اور قرآن کریم کا تو اپنا چیلنج ہے کہ اگر سمجھتے ہو کہ لکھ کر دے دیا تو پھر اس جیسی ایک سورۃ ہی لا کر دکھاؤ۔پھر جذبات کے احترام کا سوال پیدا ہوتا ہے تو اس میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی 14