ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 97 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 97

یہ میری شہادت ہے ہر ایک جو اس کو سنے یا دیکھے اور سمجھے اس کے پاس یہ میری امانت ہے سب سے پہلے میں اللہ تعالیٰ کو اور اس کے فرشتوں کو اپنی اس وصیت پر گواہ کرتا ہوں میں ربّ العالمین کا ایک فقیر ہوں اور میرا نام نورالدین ہے اے اللہ! تو اس نام والے کو اسم بامسمّٰی بنادے۔آمین۔میرا ربّ اللہ تعالیٰ ہے جو تمام عالموں کا ربّ ہے جس کی بخششیں بغیر ہماری کسی محنت کے ہمیں عطا ہوئیں اور جو ہماری محنتوں کو بارآور کرتا ہے۔جزاء وسزا کے وقت کا وہ مالک ہے وہ اللہ ایک ہے بے احتیاج ہے نہ اس کو کسی نے جنا تھا اور نہ آگے اس نے کسی کو جنا اور نہ اس کی کوئی برابری کرنے والا ہے وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں سب بادشاہی اس کی ہے سب حمد اس کے لئے ہے وہ زندہ ہے دوسروں کو قائم رکھنے والا ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے۔آسمان سے زمین تک تمام امور کی تدبیر کرتا ہے وہ قدرت والا ہے جو ارادہ کرتا ہے وہی کر لیتا ہے سنتا ہے دیکھتا ہے اسی نے موسیٰ سے کلام کیا اور اس کے خوبصورت نام ہیں اور وہ سب سے بے پروا ہے۔وہ اپنے عرش پر ٹھیک ٹھاک حکمران ہے اور کوئی اس کی مانند نہیں اس کے علم اور خلق کا احاطہ سب پر ہے اور اس کا علم سب پر وسیع ہے اور ہر ایک شے کو اس نے گن رکھا ہے وہ چھپے رازوں کو جانتا ہے اور مخفی باتوں سے آگاہ ہے۔کیا وہ جس نے پیدا کیا نہیں جانتا؟ حالانکہ وہ تو بڑا باریکبین اور باخبر ہے۔وہ غیب کو جانتا ہے ظاہر سے آگاہ ہے۔اس کی ذات برتر ہے اس سے جو وہ شریک کرتے ہیں۔وہ اوّل ہے اس کے قبل کوئی نہیں وہ آخر ہے اس کے بعد کوئی نہیں وہ ظاہر ہے اس کے اوپر کوئی نہیں وہ باطن ہے اس کے سوا کوئی نہیں۔اس کی قضا کو کوئی رد نہیں کر سکتا اور اس کے حکم کو کوئی موڑ نہیں سکتا۔اسی کے ہاتھ میں خیر ہے اور وہ سب چیزوں پر قادر ہے اور تیرے ربّ کی باتیں صدق وعدل سے پوری ہوئیں۔اس کے کلمات کو کوئی بدل نہیں سکتا اور وہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا اور تیرا ربّ کسی پر ظلم نہیں کرتا اور اللہ کی حجت سب پر غالب ہے اگر وہ چاہتا سب لوگوں کو ہدایت دے دیتا۔وہ غضبناک ہوتا ہے اور راضی بھی ہوتا ہے اور بندہ کی توبہ پر خوش ہوتا ہے اور آنکھیں اس کا احاطہ نہیں کر