ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 90 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 90

فرشتہ یا شیطان کہتے ہیں۔کچھ وہ لوگ ہیں جو قرآن شریف کے صرف باطنی معنے کرتے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ باطنی معنے بھی ہوتے ہیں مگر ان لوگوں نے ظاہر کو بالکل چھوڑ ہی دیا ہے اور یہ ٹھیک نہیں ہے۔ایک اور جماعت بڑے زور شور سے طیار ہو رہی ہے ہزاروں لاکھوں ہر سال پیدا ہوتے ہیں۔وہ کالجوں میں طیار ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اُن پر فضل کرے اور انہیں راہ راست پر لاوے۔ان کا یہ حال ہے کہ کوئی عبادت انہوں نے اپنے ذمے نہیں لگائی۔نہ نماز پڑھتے ہیں، نہ روزہ رکھتے ہیں، نہ قرآن شریف کی تلاوت کرتے ہیں، نہ حج کو جاتے ہیں، ہاں بڑے بڑے لیکچر دیتے ہیں کہ اسلام کے واسطے یہ کرنا چاہئے اور مسلمانوں کے واسطے وہ کرنا چاہئے اور قوم کے واسطے ہم ایسے دردمند ہیں اور فکر مند ہیں اور غمگین ہیں۔شراب پیتے ہیں اور شراب کے نشہ میں تقریر یں کرتے ہیں اور کیا کیا شکلیں بناتے ہیں مگر عمل سے خالی ہیں۔ہاں ان میں سے مستثنیٰ بھی ہیں۔ایسے ہی ……ایک جنٹلمین نے ہمارے ایک احمدی سے پوچھا کہ تم ہمارے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے۔اُس احمدی نے خوب جواب دیا کہ جناب مسلمان دو قسم کے ہیں۔ایک تو ملّاں لوگ ہیں جن کو آپ حقارت سے دیکھتے ہیں اور ان کو میلے کچیلے لوگ بتلاتے ہیں اور اولڈ فیشن کہتے ہیں ان کے پیچھے تو آپ خود بھی نہیں پڑھتے اور نہ ان کی مسجدوں میں جاتے ہیں۔جنٹلمین نے کہا۔ہاں یہ ٹھیک ہے وہ بہت میلے لوگ ہیں۔احمدی نے کہا۔اچھا دوسرے آپ ہیں جو بخیال خود صاف ستھرے رہتے ہیں مگر آپ نماز پڑھتے ہی نہیں سو آپ کے پیچھے نماز پڑھنے کی تجویز کی جائے تو نماز ہی جائے۔جنٹلمین بولا کہ بات تو تمہاری معقول ہے۔یہ جماعت کالجوں میں طیار ہو رہی ہے۔وہاں ان کو دین تو پڑھایا نہیں جاتا اس واسطے مذہب سے بالکل بے خبر ہوتے ہیں۔ایک انگریز کو ہم نے دیکھا کہ گھڑی کی زنجیر کے ساتھ اُس نے ایک صلیب لٹکائی ہوئی تھی۔دریافت کرنے پر کہنے لگا کہ یہ مذہب کے خیال سے نہیں لٹکائی گئی یہ ایک قومی نشان ہے۔ہمارے دیسی جنٹلمین یورپ کو دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ مذہب کی ضرورت نہیں سمجھتے اس