ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 87
کے مکان پر حافظ ابو اللیث محمد اسماعیل صاحب سناتے ہیں۔غرض اس طرح قرآن شریف کے پڑھنے پڑھانے اور سننے کا ایسا شغل ان ایام میں دن رات رہتا ہے کہ گویا اس مہینہ میں قرآن شریف کا ایک خاص نزول ہوتا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح اپنے درد مند دل کی دعائوں کے ساتھ قرآن شریف سناتے ہیں۔ہر درس کے بعد سامعین کے واسطے دعا کرتے ہیں۔اس واسطے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس درس رمضان کو کلام امیر میں درج کیا جائے اور اُس کے صفحات بھی دو یا چار ہر ہفتے الگ رکھے جائیں تاکہ جو احباب چاہیں ان صفحات کو بعد میں الگ کر کے ایک کتاب بنا سکیں۔اس اخبار میں دو صفحات لگائے گئے ہیں۔اگلے میں انشاء اللہ تعالیٰ چار لگائے جائیں گے تاکہ جلد یہ کاپی الگ ختم ہو جائے۔کلام امیر قرآن رمضان کی شان کے لحاظ سے خوشخطی اور خوبصورتی اور خوشنمائی کا بھی لحاظ رکھا گیا ہے۔اخباری مسطر کی گنجانی نہیں رکھی گئی کیونکہ یہ وہ چیز ہے جس کو سب دوست سال کے آخر میں جلد کرا کر اپنے پاس محفوظ رکھنا ضروری خیال کریں گے۔ضمیمہ درس جو پہلے اخبار کے ساتھ شائع ہوتا ہے ا ور اب آخری پارہ چھپ رہا ہے اور عنقریب ختم ہونے والا ہے اُس کے پورا ہونے پر ایک دور قرآن شریف کے نوٹوں کا مکمل ہو جائے گا۔لیکن اس میں حضرت خلیفۃ المسیح کی علالت کے ایام میں چند پارے ایسے ہیں جن کا درس حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب نے دیا تھا۔اُن پاروں کا درس اُس کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح نے بھی دیا تھا اور وہ نوٹ محفوظ ہیں اس واسطے اُس دور کے ختم ہونے پر اخبار کے ساتھ وہ پارے بطور ضمیمہ کے شائع ہوتے رہیں گے تاکہ ایک دفعہ سارا قرآن شریف حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ العزیز کا بیان کردہ احباب کو پہنچ جائے۔اُس کے بعد پھر ضمیمہ درس میں دوسرا دور شروع کیا جائے گا جس میں صرف وہ باتیں لکھی جائیں گی جو کہ پہلے دور میں درج نہیں ہوئیں اور اس طرح یہ سلسلہ ضمیمہ کا برابر جاری رہے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔بعض دوستوں کی یہ بھی رائے ہے کہ نئے دور میں ایک ورق قرآن شریف کا اور ایک ورق کتاب حدیث صحیح بخاری کے نوٹ ہوں۔اس کے واسطے ناظرین کی رائے طلب کی جاتی ہے۔اب ہم درس قرآن رمضان کو شروع کرتے ہیں اور سب سے اوّل حضرت