ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 82
آجاوے، تمہاری اولادیں نیک ہوں، تمہارے خاوند نیک ہوں، خداوند کریم تمہیں تکبر، غیبت، چغلی، گلہ، جھوٹ، بدکاریوں سے بچائے۔سو عمل کرو سوائے عمل کچھ نہیں بنتا۔فقط۔(البدر جلد۱۲ نمبر۷ مورخہ ۱۵؍ اگست ۱۹۱۲ء صفحہ۳) حضرت خلیفۃ المسیح کا ایک مولوی صاحب سے مکالمہ ( مورخہ ۱۳؍ اگست ۱۹۱۲ء) سوال۔آپ کے اصول کیا کیا ہیں۔دوسرے مسلمانوں سے آپ کو کیا اختلاف ہیں؟ جواب۔ہمارے اصول یہ ہیں۔اللہ تعالیٰ ایک ہے۔مستجمع جمیع محامد کاملہ ہے۔ہر ایک قسم کے عیب و نقص سے منزہ۔ملائکہ ہیںاور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف کاموں پر متعین ہیں۔تمام رسول برحق ہیں کتابیں جو ان پر اتریں برحق ہیں۔جزا و سزا کا مسئلہ برحق ہے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔دوسرے مسلمانوں سے اصول دین میں ہمارا کوئی اختلاف نہیں جہاں وہ ایک لاکھ سے زیادہ انبیاء کی وفات کو مانتے ہیں وہاں ایک حضرت مسیح کی وفات کو ہم نے مان لیا تو کیا گناہ ہے۔ایسا ہی امت محمدیہ میں مکالمہ ومخاطبہ الٰہی اولیاء اللہ سے جاری ہے تو مرزا صاحب سے خدا تعالیٰ کا مکالمہ ماننا کیا حرج رکھتا ہے۔مسیح کا نزول ماننا اصول دین میں داخل نہیں۔سوال۔مرزا صاحب کیا تھے؟ کیا وہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں؟ جواب۔مرزا صاحب امتی ہیں۔اپنا نام ہمیشہ غلام احمد فرماتے رہے۔جس طرح ہم لوگ ابراہیم، اسمٰعیل وغیرہ نام رکھ لیتے ہیں اسی طرح خدا نے ان کا نام عیسیٰ رکھا۔بنی اسرائیل کا عیسیٰ فوت ہوچکا ہے۔عیسیٰ کے نزول کا مسئلہ الفاظ قرآنی(البقرۃ :۵۸) ( الزمر : ۷) پر غور کرنے سے حل ہو جاتا ہے کیونکہ لوہا