ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 7
کچھ ان کے عقائد فاسدہ کی تردیدفرمائی۔پھر جب لوگ احادیث رسول صلعم کو بھول گئے اور دین کا دارومدار چند اقوال پر رہ گیا تو اللہ تعالیٰ نے شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کو بھیج دیا جنہوں نے احادیث کی کتب و احادیث کے مسائل کا رواج دیا۔چنانچہ اس کے بعد لوگ کم از کم صحاح ستہ کے نام سے واقف ہوگئے اور ایک گروہ ہندوستان میں بھی سنت نبوی کو زندہ کرنے والا پیدا ہوگیا۔پھر جب عیسائیوں کے اعتراض بڑھے اور ان لوگوں نے اپنے دین کو پھیلانے اور انسان کے بیٹے کو خدا منوانے کے لیے ہرایک تدبیر سے جو کسی انسانی ذہن میں آسکتی ہے کام لینا شروع کیا۔یہاں تک کہ الخمر جو جماع الاثم ہے اور النساء جو حبائل الشیطان ہیں وہ بھی معاون ہوئے تو خدا نے اپنے مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مبعوث کیا اور یہ فتنہ کمزور پڑا اور اس کے خدام کی ایک جماعت پیدا ہوگئی جو ان کے سب مقاصد کو پورا کرنے والے ہیں۔انشاء اللہ تعالیٰ۔عباد الرحمن کون ہیں؟ جو متکبر نہ ہوں، متحیر نہ ہوں، سکونت اور وقار ان کا شیوہ ہو، سہولت سے کام لیں، فساد ان کے کسی فعل سے نہ پڑے، جاہلوں سے الگ تھلگ رہیں، بغیر حق کسی قتل کے مرتکب نہ ہوں، ایک اللہ کی عبادت کرنے والے ہوں، خرچ میںمیانہ رو ہوں، لغو سے اعراض کرنے والے ہوں، آیات اللہ کی پوری تعظیم کرنے والے ہوں، اپنے لیے اپنی اولاد کے لیے دعا میں لگے رہیں۔برہمو سماج کے فتنے سے بچو یہ لوگ بظاہر بہت نرم گفتگو کرتے ہیں مگر دراصل تمام انبیاء علیہم السلام اور راستبازوں کی جماعت کو مفتری اور دروغ مصلحت آمیز بولنے والے قرار دیتے ہیں۔ایسا کہہ کر یہ لوگ تمام انبیاء کے متبعین کی دل آزاری کرتے ہیں اور ان کے ا ئمہ کو جھوٹا اور لوگوں کو دھوکا دینے والے قرار دیتے ہیں۔ان کے نزدیک نعماء جنت کا ذکر گویا جہلاء کو بات منوانے کا ایک ذریعہ ہے۔اور الہام تو ان کے نزدیک ایک خیال ہے جو دل میں آجائے۔ان کی دیکھا دیکھی بعض مسلمان کہلانے والے بھی ملائکہ کے وجود کے منکر ہیں اور ان سے مراد اچھے لوگ لیتے ہیں۔چنانچہ ایک نے کہا ہے ؎ نہ جبریل امین قرآن بہ پیغامے نمے خواہند ہمان گفتار محبوب است قرآنے کہ من دارم