ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 75 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 75

اولاد میں عورتوں کے لئے بڑا فتنہ فرمایا۔یہ جو قرآن حمید میں فرمایا گیا ہے  (التغابن :۱۶) یہ بالکل ٹھیک بات ہے اور خاص کر عورتوں کے لئے بہت ہی فتنہ ہے۔فتنہ عربی بولی میں سنار کی کٹھالی جس میں سونا کھرا کھوٹا پہچانتے ہیں اسے بھی کہتے ہیں۔تو انسان مومن مال، اولاد میں پہچانا جاتا ہے۔مثلاً دیکھو صبح کی نماز کا وقت ہے ادھر رات بچہ نے پیشاب کر کر کے کپڑے بھگو دیئے بدن پر پیشاب لگادیا وہ دھونا ہے ادھر سردی ہے بچہ رو رہا ہے۔ادھر میاں کا ناشتہ تیار کرنا ہے تو ایسی حالت میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ نماز پڑھ لینا بہادروں کا کام ہے گویا فتنہ سے کامل اترنا ہے۔اسی طرح عصر کو، شام کو، عشا کو ایسے ہی مشکلات سے نکل یاد خدا کرلینا بہت بڑا بہادری کا کام ہے۔خوف خدا والوں کا حال ایک بزرگ نے اپنی بیٹی کہیں دور بیاہ دی پھر مدت کے بعد وہ میکے آئی تو وہ بزرگ بھری مجلس میں بیٹھے تھے جونہی دامادان کی نظر پڑا۔فرمایا کیوں جی جب ہماری لڑکی ڈولی میں تھی نماز کہاں پڑھی؟ اس نے کہا حضور شاید اندر پڑھ لی ہوگی۔کہاباہر چونکہ ناواقف ہوتے ہیں باہر کہاں نکلتی، تو پھر کہا وضو کہاں کیا نہ پڑھی ہوگی؟ وہ خاموش رہا۔تو فرمایا تو نے اسے طلاق کیوں نہ دے دی۔یہ تھا خدا کے خوف والوں کا حال۔نماز عصر فرمایا۔دھوپ زرد ہوجاوے تو عصر کی نماز جائز نہیں۔نیکی کو تنگی اور تکلیف نہیں فرمایا۔کوئی آدمی تنگی و تکلیف میں رہنا نہیں چاہتا۔لوگوں نے یہ قرآن حمیدکے خلاف مثل گھڑی ہوئی ہے کہ نیکوں کو تکلیفیں ہوتی ہیں۔یہ جھوٹی کہانیاں بنی ہوئی ہیں اور یہ کہ پیغمبر ﷺ جَو کھاتے بکریوں کا دودھ پیتے تھے۔اجی عرب میں جَو تو پیدا ہی ہوتے ہیں۔ہمارے نبی اکرم ﷺکے پاس بڑے بڑے جلیل القدر بادشاہوں کی بیٹیاں بیاہی تھیں۔ایک دفعہ اس قدر روپیہ آیا کہ صحن مسجد بھر گیا۔تو آپ نے کوئی حساب نہ رکھا اور حکم فرمایا کہ جتنا کوئی چاہے لے جائے۔کیا یہ بھوکوں ننگوں کا کام ہے۔یہ بہت غلط باتیں ہیں۔مومن اللہ تعالیٰ کو بہت پیارا لگتا