ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 74 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 74

میںدی۔بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم وآلہ مع التسلیم اما بعد میاں ظہیر الدین اپنی غلطی سے پشیمان ہیں۔فَیَغْفِرُاللّٰہُ لِیْ وَلَہٗ وَلَا تَثْرِیْبَ عَلَیْہِ الْیَوْمَ میں اس کے اس رجوع پر بہت خوش ہوگیا۔جَزَاہُ اللّٰہُ جَزَاہُ اللّٰہُ اَحْسَنَ الْجَزَائِ نور الدین ۲۹؍ جولائی ۱۹۱۲ء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے کار روپے پر زکوٰۃ ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ اگر ایک رقم پر اس سال زکوٰۃ ادا کی جائے اوراگلے سال پھر وہ روپیہ بے کار پڑا رہے تو اس پر زکوٰۃ ہے یا نہیں؟ فرمایا۔شریعت اسلام میں جائز نہیں کہ انسان اپنے روپے کو بے کار رکھ چھوڑے اس واسطے زکوٰۃ ضروری ہے۔حق مہر ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ ایک مرد اپنی عورت کو طلاق نہیں دینا چاہتا لیکن عورت کے رشتہ دار طلاق لینے کے خواہشمند ہیں۔اس صورت میں مرد پر مہر کا ادا کرنا ضروری ہے یا نہیں؟ فرمایا۔اس صورت میں مرد کو مہر قطعاً نہیں دینا پڑتا بلکہ مردکچھ لے لے تو بھی جائز ہے۔(البدر جلد ۱۲ نمبر ۶ مورخہ ۸؍ اگست ۱۹۱۲ء صفحہ ۳ تا ۵) درس خواتین میں سے کچھ فرمان