ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 6
ہم دیکھتے ہیں کہ ایک زمانہ میں ……حضرت موسیٰ ؑکو اللہ تعالیٰ نے باخدا انسان بنا کر کامل اور مکمل بنایا کہ اس نے لوگوں کو ایک باخدا انسان بنایا اور اپنا قرب ان کو عطا کر کے اپنی ربوبیت کی شان کا نمونہ دنیا میں ظاہر کیا۔وہ ایک ایسا وقت تھا کہ یہودی فرعون کے ظلم و ستم اور طرح طرح کے دکھوں کے نیچے آنے کی وجہ سے انسانیت کے درجے سے بھی بہت نیچے گر گئے تھے۔جیسا کہ آیت الخ(البقرۃ:۵۰) سے استنباط ہوتا ہے سو ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ الصلوٰۃ السلام کے ذریعہ اس قوم کو انسان اور پھر باخدا انسان اور پھر مقربانِ بارگاہ الٰہی بنا کر اپنی ربوبیت کا اظہار کیا۔پھر ایک زمانہ کے بعد جب کہ یہودی وہ موسوی یہودی نہ رہے بلکہ ان کا صرف یہودیت کا دعویٰ ہی دعویٰ رہ گیا وہ ممتاز نہ رہے بلکہ اپنے اعمال بد کی وجہ سے انسانیت سے بھی گرگئے۔وہ موحد نہیں بلکہ مشرک، وہ خدا پرست نہیں بلکہ دنیا پرست رہ گئے اور ایسے گرے کہ وہ خدا سے بالکل دور جاپڑے تو پھر خدا کی شان ربوبیت نے مسیح علیہ السلام کو پیدا کر کے اپنی شان کا جلوہ ظاہر کیا اس وقت نام کے یہود نے کیسی مخالفت کی مگر بہت نے مسیح کی تعلیم کی وجہ سے اعلیٰ ترقیاں پائیں اور وہ باخدا اور مقرب بارگاہِ الٰہی بنے۔مگر پھر جب ایک زمانہ گزرنے پر ان میں بھی سستی اور کاہلی پھیل گئی اور وہ خدا کے احکام کو ترک کر کے شرک میں گرفتار ہوگئے اور ان کا اصل فرقہ باقی نہ رہا بلکہ گندے اور بت پرست لوگوں کا ایک فرقہ باقی رہ گیا۔پیٹرا مون کو چھوڑا تو مسیح علیہ السلام کو پکارنا شروع کر دیا۔غرض جب یہ حالت ہو گئی تو پھر خدا کی ربوبیت نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے اپنی ربوبیت عامہ کا جلوہ دکھایا اور قدیم بت پرستانِ عرب کو جو مسلّمہ طور پر انسانی حالت سے بھی گرے ہوئے تھے پہلے انسان پھر باخدا انسان اور پھر مقربانِ بارگاہِ الٰہی بنا کر دکھادیا اور ہزاروں ہزار یہودی اور ہزاروں ہزار عیسائی قوموں کی قومیں صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کی تعلیم کے نیچے آکر توحید کی قائل ہوئیں حتی کہ حضرت امام حسن بصری جیسے عظیم الشان لوگ جو کہ عیسائی خاندان سے تھے۔ان لوگوں کو توحید سکھائی اور یہ خدا کی ربوبیت عامہ کا ایک خاص جلوہ تھا۔اسی طرح سلمان فارسی عیسائی تھے جو آخر اہل بیت نبوی میں شامل