ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 5 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 5

سے اس وقت ایک دینی خدمت ہے اور یہ بھی فائدہ کہ ایسے مفید رسائل کی آئندہ ترقی ہو۔آمین (نورالدین) (الحکم جلد۱۶ نمبر۱ مورخہ ۷؍ جنوری ۱۹۱۲ء صفحہ ۹،۱۰) مولوی عبدالحق کے خط کا جواب مکرم معظم مولانا ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔خاکسار ایک ضعیف، ضیعف العمر اس پر علیل ہے۔گھوڑے سے گرا تھا اب تک زخم باقی ہیں۔پھر مولانا ! ہم لوگ نہ علماء ہیں نہ حکماء نہ اطباء ہیں۔پھر بادشاہوں کے حضور جانا روئے باید۔بہرحال جناب خود ہر طرح منتخب اور ایسے امور کے لائق ہیں۔دعا کولوگ کچھ سمجھیں میں اس کا قائل ہوں دعا کروںگا۔مولانا ! آپ بحمداللہ عالم ہیں۔علماء اگر اپنی اصلاح فرماویں توکونسی عزت ان کو حاصل نہیں اور ان کو مل نہیں سکتی مگر موجودہ حالت میں جو کچھ ہورہا ہے وہ سب کو  (الشوریٰ : ۳۱)کی تصدیق ہے۔بادشاہ کیا کرسکے گا۔یہ علماء حاصل شدہ عزت سے متمتع نہیں ہوتے کیوں؟ اس میں کس کا قصور ہے۔خاکسار ۱۸؍ نومبر ۱۹۱۰ء سے علیل ہے اس لئے سفر کے قابل نہیں۔والسلام نورالدین ۱۱ ؍ نومبر ۱۹۱۱ء (ماخوذ از دربار دہلی پر علماء ومشائخ اور حضرت خلیفۃ المسیح۔الحکم جلد ۱۶ نمبر ۳ مورخہ ۲۱؍ جنوری۱۹۱۲ء صفحہ ۱۰ ) حضرت خلیفۃ المسیح کی سب سے پہلی تقریر اللہ تعالیٰ نے اپنے ارادہ ازلی کے ماتحت ایک کثیر جماعت کو امیر المؤمنین نور الدین کے ہاتھ پر جمع کیا اور آپ خلیفۃ المسیح کے نام سے قوم میں ممتاز ہوئے اس وقت آپ نے ایک تقریر فرمائی تھی جس کا ایک اقتباس درج ذیل ہے۔