ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 59 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 59

باتیں۔سو ایک بات اس کتاب سے حاصل ہوجاوے گی۔اب تک میرے دل پر اس کی بات کا اثر ہے کہ ہمارے واعظین کا یہ حال ہے کہ خشیۃ اللہ، خوف الٰہی، دنیا کی بے ثباتی، کسل و کاہلی کو دور کرنے کی تجاویز، وحدت و اتحاد وہ نہیں پیش کرتے بلکہ صرف ہنسانے اور رلانے کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔میں خوف کرتا ہوں کہ واعظوں کا وہ حال ہوجو کہا گیا ہے کہ بدار۔بدار۔بدار۔وَ یَذْھَبُ اِلٰی دَارِ الْبَوَارِ۔لوگوں کو تو کہیں کہ خبردار ہوشیار ہوجاؤ۔یہ کرو وہ نہ کرو۔اور خود جہنم کو چلے جاویں۔(ماخوذ از کلام امیر۔البدر جلد۱۱ نمبر۳۳ مورخہ۳۰ ؍ مئی ۱۹۱۲ء صفحہ۴) ملفوظات حضرت خلیفۃ المسیح (مرقومہ۔محمد عبداللہ بوتالوی) نبی کی حالت الہام کے وقت ۱۲ ؍اپریل ۱۹۱۲ء۔سوال ہوا کہ نبی کی حالت الہام کے وقت کیا ہوتی ہے؟ فرمایا۔یہ ذوق کی حالت ہے۔نہ یہ تقریر سے بیان ہوسکتی ہے اور نہ کسی کی سمجھ میں آسکتی ہے۔شہد اور گُڑ دونوں میٹھے ہیں مگر کوئی ان کے فرق کو تقریر سے بیان نہیں کرسکتا۔ہیر کو رانجھا کے متعلق ایک ذوق تھا جو دوسرے کو نہیں ہوسکتا۔حالانکہ اس کو اور بھی ہزاروں نے دیکھا ہوگا۔اسلام سہل مذہب ہے ۲۴؍ مارچ ۱۹۱۲ء۔فرمایا۔اسلام بڑا سہل مذہب ہے۔ایک قرآن اور ایک بخاری پاس ہو تو پھر کسی قسم کی حاجت باقی نہیں رہتی۔اور میرے جیسا اگر قرآن آتا ہو تو پھر بخاری کی بھی کم ہی ضرورت پڑتی ہے۔پھر فرمایاکہ مجھے خدا کے فضل سے قرآن خوب آتا ہے بلکہ مجھے تو بعض وقت قرآن میں سے عجیب عجیب انوار صداقت کے نظر آتے ہیں جن کو میں دوسروں کے آگے بیان نہیں کرسکتا۔