ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 53 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 53

کاش !خدیو نمازی بناتا ایک شخص نے ذکر کیا کہ اخبار میں لکھا ہے کہ خدیو مصر نے ایک کروڑ روپیہ لگا کرایک مسجد بنوائی ہے۔فرمایا۔کاش کہ وہ ایک کروڑ روپیہ نمازیوں کے تیار کرنے میں لگاتا۔ایسی مساجد تو پہلے بھی موجود ہیں اب تو نمازیوں کی ضرورت ہے۔لاہور کی شاہی مسجد پر ایک کروڑ روپیہ لگا ہوگا اور مسجدوزیرخاں پر تو اس سے بھی زیادہ لگا ہے۔اس کی کاریگری کی آج تک کوئی نقل نہیں کرسکا۔ہماری دولت ایک دوست کا خط پیش ہوا کہ میں مبلغ تین سو روپے کا مقروض ہوں اور قرضہ کے سبب لاچار ہوں میری امداد فرمائی جاوے اور ایک کا نام لکھا کہ اس سے مجھے قرضہ لے کر دیا جاوے۔حضور نے اس خط کو لے کر اپنے دست مبارک سے اس پر ایک دعا لکھی اور فرمایا۔اس کو لکھ دو کہ ہمارے پاس تو یہ دولت ہے اس کو لے لو اور اس کے ساتھ خود خط وکتابت کرو۔وہ دعا بمعہ ترجمہ فائدہ عام کے واسطے درج اخبار کی جاتی ہے۔اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْھَمِّ وَالْحُزْنِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ غَلَبَۃِ الدَّیْنِ وَ قَھْرِالرِّجَالِ۔اَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَ اغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ۔ترجمہ۔اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں فکر اور غم سے۔اور تیری پناہ چاہتا ہوں ناتوانی اور سستی سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں بخل اور نامردی سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں میں قرض کے غلبے سے اور لوگوں کے دباؤ سے۔الٰہی کفایت کر مجھ کو اپنی حلال روزی سے بچا کر اپنی حرام روزی سے اور بے پرواہ کر مجھ کو ساتھ اپنے فضل کے اپنے ماسوا ئے۔گناہ سے نفرت کس طرح ہو ؟ ایک شخص نے عرض کی کہ مجھے کوئی ایسا طریق بتلائیں جس سے گناہ سے قطعی نفرت ہوجاوے۔فرمایا۔نیکوں کی صحبت اختیار کرو اور موت کو یاد رکھو۔