ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 52
ضرورت ہے۔میں نے کہا کہ کوئی مثال دو۔اس نے جھٹ پڑھ دیا کہ (الاحزاب:۷۱)میں نے اس کا ترجمہ یہ سنادیا کہ گلاؤ گل سدھی۔بات کہنے کو اس طرف گلانا بھی کہتے ہیں۔یہ ترجمہ آیت کے الفاظ سے ایسا مطابق تھا کہ گویا عربی سے ہی بگاڑا گیاہے۔۲۴ مارچ ۱۹۱۲ء(درس حدیث شریف) تجارت کی عمدہ راہ فرمایا۔تجارت کی راہ یہ ہے کہ جنس کو چالیس چالیس دن تک رکھ کر بیچ دیا کرے۔اتنا حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے اس سے زیادہ عرصہ رکھنا نہیں چاہیے۔تھوڑا عرصہ رکھنے میں اگر گھاٹا ہوگا تو بھی کم ہی ہوگا۔یہ تجارت کی بڑی عمدہ راہ ہے۔دوسرے یہ کہ ہر قسم کے غلے رکھے کیونکہ عموماً تمام غلے یکدم گراں نہیں ہوجاتے۔فرمایا۔ایک دفعہ بھیرہ میں غلہ اتنا مہنگا تو نہ تھا مگر مجھے معلوم ہوا کہ یہ گراں ہوجاوے گا دل میں آیا کہ غلہ کافی خرید لوں۔پھر خیال آیا کہ ہمہ یاراں دوزخ ہمہ یاراں بہشت۔جو دوسروں کا حال ہوگا ہم بھی گزر لیںگے۔چنانچہ غلہ سات سیر فی روپیہ ہوگیا مگر خدا نے وہ فضل کیا کہ میری آمدنی اس قدر بڑھادی کہ مجھے اس سات سیر کے نرخ میں ذرا بھی بوجھ معلوم نہ ہوا۔فرمایا۔ایک بزرگ تھے ان کو الہام ہوا کہ اس دفعہ چنے بہت گراں ہوجاویں گے۔انہوں نے یہ الہام عام لوگوں کو بھی بتادیا مگر خود صرف سوروپیہ کے چنے خریدے حالانکہ وہ ہزارہا روپیہ کے مالک تھے۔ان کو اس سو روپیہ کے چنوں میں کافی نفع ہوا۔میں نے ان کو کہا کہ آپ نے زیادہ روپیوں کے چنے کیوں نہ خرید لیے۔انہوں نے کہا اس واسطے کہ میں اس الہام کو دنیا طلبی کا ذریعہ نہ بنالوں۔پھر پوچھا کہ سو روپیہ کے چنے کیوں خریدے۔فرمایا۔اس واسطے کہ خدا کے فضل کو قبول کرلوں جو اس نے خود مجھے اطلاع دی ہے۔اگر ایسا نہ کرتا تو کفران نعمت تھا اور الہام الٰہی کی بے ادبی تھی۔(البدر جلد۱۱ نمبر۲۸،۲۹ مؤرخہ ۲مئی ۱۹۱۲ء صفحہ۳،۴)