ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 51 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 51

خدمت میں آیا اور کہا کہ ہم اپنے پادریوں کو ربّ تو نہیں سمجھتے۔آپ نے فرمایا کہ جس کو وہ حلال کہتے ہیں تم اس کو حلال اور جس کو وہ حرام کہتے ہیں تم اس کو حرام نہیں سمجھتے؟ غرض کہ جو کچھ وہ کہتے ہیں تم وہی کچھ مان لیتے ہو۔وہ کتاب اللہ کا حوالہ تو نہیں دیتے۔یہی ربّ بنانا ہوتا ہے۔مسلمانوں کے علماء کا بھی یہی حال ہوگیا ہے۔سہارنپور میں کوّے کی حلت اور حرمت کا جھگڑا عرصہ تک چھڑا رہا۔تین کتابیں چھپیں۔غدر سے پہلے اُلّو کی حلت اور حرمت کا جھگڑا برپا رہا اور اس پر خوب فتویٰ بازی ہوتی رہی۔ایک نے لکھا ؎ اُلّو ہے وہ جو کہتا ہے اُلّو حلال ہے دوسرے نے یہ لکھا کہ ؎ اُلّو ہے وہ جو کہتا ہے اُلّو حرام ہے ایک نے ’’بال کی کھال‘‘ کتاب بنائی۔دوسرے نے اس کا جواب بنایا جس کا پہلا شعر یہ ہے ؎ زاہد اس نے جو کھال نکالی ہے بال کی مزدوری دینا چاہیے اس خستہ حال کی ۱۱؍ مارچ ۱۹۱۲ء قرآن سیکھنا آسان ہے فرمایا۔میں ایک دفعہ وزیرآباد کے اسٹیشن پر تھا۔ایک آدمی کا جموں میں ہمارے ساتھ تعلق تھا۔اس نے کہا کہ آپ کہتے ہو کہ ہم قرآن پڑھیں مگر اب ہم اس عمر میں صَرف کس طرح پڑھ سکتے ہیں؟ میں نے کہا کہ صَرف آسان ہے۔صَرف کہتی ہے کہ قَالَ قَوَلَسے بنا۔قرآن شریف میں پہلے ہی قَالَ بنا ہوا ہے قَوَلَ سے نہیں بنانا پڑتا۔پھر کہا کہ نحو کی تو ضرورت ہے۔میں نے کہا کہ اس کا بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ سامان ہوچکا ہے کہ اب نحو سے مدد لینے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔یعنی موجودہ قرآن شریفوں پر زبر زیر پڑے ہوئے ہیں۔پھر کہا کہ لغت کی تو