ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 509
حضرت امیر المؤمنین نے <mark>اس</mark> کے <mark>جو</mark>اب میں ایسے کہا کہ تمہارا مذہب تباہ ہوگیا کیونکہ تم اور رشید احمد دونوں تقلید کو ضروری جانتے ہو۔اگر مجتہد کے اجتہادات بڑھتے ہیں تو صاف ظاہر ہے کہ <mark>ایمان</mark> بڑھتا ہے اور اگر نہیں تو پھر تم بتائو کیا یہ صحیح ہے۔<mark>اس</mark> پر وہ خاموش ہوگیا۔بخاری پر اعتراض اور ان کا <mark>جو</mark>اب میں نے بخاری کو بہت پڑھا ہے اور لوگوں نے <mark>اس</mark> پر <mark>جو</mark> جرح کی ہے جہاں تک میری عقل و فکر ہے تمہیں سمجھاتا ہوں کہ وہ محض بے اصل ہیں۔میرے علم میں بخاری پر جرح کی ۱۴ وجہیں ہیں۔۱۔کسی کو کہا قدری ہے۔۲۔کسی کو کہا شیعہ ہے۔۳۔کسی کو کہہ دیا جہمی ہے۔۴۔بنو امیہ کی سلطنت کو اچھا سمجھتا تھا۔۵۔شامی تھا۔۶۔کسی کا حافظہ گھٹ گیا۔۷۔فلاں کی حدیث جائز نہیں۔<mark>اس</mark> نے کسی سے تحفہ لے لیا یا امراء کے ہدایا لیتا تھا۔۸۔خارجی ہے۔۹۔<mark>اس</mark> کے گھر حدیث پڑھنے گئے تو اندر سے قرآن شریف برنگ راگ پڑھنے کی آواز آئی۔۱۰۔ایسے لوگوں سے روایت کی <mark>جو</mark> ان کے پ<mark>اس</mark> بیٹھے۔۱۱۔کسی سے رنج ہے۔۱۲۔کبھی ناموں میں شبہ ہوگیا۔۱۳۔فلاں آدمی کسی امیر کے گھر گیا تھا۔۱۴۔ایک کی نسبت طعنہ کیا کہ وہ تمسخر اور مخول کرتا تھا۔غرض <mark>اس</mark> قسم کے امور پیش کرکے ان لوگوں نے کہا ہے کہ بخاری نے ان سے روایت کی۔میں نے ان امور پر خوب غور کی تو مجھے معلوم ہوا کہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا دل بہت وسیع تھا اور خدا نے میرے دل میں بھی اپنے فضل سے وسعت دی ہے۔انہوںنے <mark>اس</mark>ی وسعت حوصلہ کی بنا پر ہر قسم کے لوگوں سے حق کو لیا ہے۔شیعہ ، خارجی، جہمی، ایاضہ، سنی ، صوفی ، قدری وغیرہ ہر قسم کے لوگ مو<mark>جو</mark>د تھے۔<mark>اس</mark> لئے بخاری نے صداقت اور ر<mark>اس</mark>تبازی کو مقدم کرکے ۱۸۰۰ شیخ سے حدیث لی ہے اور ان کے <mark>اس</mark>تادوں نے فخر سے کہا ہے کہ ہم نے بخاری سے بخاری پڑھی ہے۔میری سمجھ میں مومن کو جہاں سے صداقت ملے <mark>اس</mark>ے لینی چاہیے۔مندرجہ بالا امور میں صرف آخری امر کے متعلق میری طبیعت میں بھی غور کی ضرورت محسوس ہوئی کیونکہ میں جانتا ہوں کہ سنجیدگی اور متانت بڑی ضروری چیز ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم