ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 502
ہے۔اور ابن عمرؓ نے کہا کہ بندہ تقویٰ کی حقیقت کو نہیں پاسکتا جب تک اس چیز کو چھوڑ دے جو سینہ میں کھٹکے۔اور مجاہد نے کہا۔شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا کا یہ مطلب ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو اور نوحؑ کو ایک ہی دین کی تعلیم دی ہے۔اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ شِرْعَۃٌ اور مِنْہَاجٌ کے معنے راہ اور طریقہ کے ہیں اور تمہارا دعا کرنا ایمان ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔کہہ دو کہ میرا ربّ تمہاری پرواہ ہی کیا رکھتا ہے اگر تم اس کو نہ پکارو۔اور دعا کے معنے لغت میں ایمان کے ہیں۔…………………… نوٹ:۔کتاب الایمان کا پہلا باب ایک معرکۃ الآرا باب ہے۔ایمان کی کمی بیشی کے متعلق علماء اسلام میں بڑے بڑے مباحثے ہوئے۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن کریم کی اَ لْاِیْمَانُ یَزِیْدُ وَ یَنْقُصُ متعدد آیات اپنے دعویٰ میں پیش کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کا بڑھنا یقینی امر ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام صاحب کی نظر قرآن مجید کے مطالب پر کیسی وسیع ہے۔وہ اپنے طریق استدلال میں قرآن کریم سے کس طرح پر استشہاد کرتے ہیں۔بہرحال قرآن مجید کی آیات بینات کے مقابلہ میں دوسرے اقوال حجت نہیں ہوسکتے۔رہی یہ بات کہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے ایمان کی کمی بیشی کے متعلق بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے خلاف ظاہر کیا۔اس کی تطبیق حضرت امیر المؤمنین نور الدین مد ظلہ العالی نے جو بتائی ہے وہ اپنے موقع پر اسی نوٹ میں آتی ہے۔انسان کے علم و معرفت میں ترقی کا ہونا ایک بیّن امر ہے جو ہمارے مشاہدہ میں آتا ہے اور وہ لوگ جو مذہب اور ایمان کے نام سے چڑتے ہیں وہ بھی اس کو تسلیم کرتے ہیں۔پھر قرآن مجید ہی میں علم کے جو تین مراتب علم الیقین ، عین الیقین اور حق الیقین بیان کئے گئے ہیں وہ ایمان ہی کی ترقی یافتہ شانیں ہیں اور ان کو مراتب معرفت بھی کہتے ہیں اور اسی طرح پر ایمان ، ایقان، عرفان یہ بھی مدارج ایمان کہلاتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک پہلی سے ترقی یافتہ حالت کا نام ہے۔