ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 500
لکھوائے تھے اور ایسا ہی ایک صحابی کو بھی کچھ ہدایات لکھوا دی تھیں جیسا کہ خود صحیح بخاری میں موجود ہے۔چونکہ تدوین اور ترتیب کے رنگ میں کتابت احادیث نہیں ہوئی اس لئے عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ہجرت کی پہلی صدی میں کوئی کتاب نہیں لکھی گئی۔میں اپنی سمجھ اور فہم کے موافق یہ کہنے کی جرأت کرتا ہوں کہ اس پر زیادہ تدبر نہ کرنے کی وجہ سے بعض لوگوں نے لکھ دیا کہ احادیث نبوی کی تدوین و تالیف دوسری صدی میں ہوئی۔اس لئے وہ اعتراضات کے نیچے ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ ایک غلط فہمی کا نتیجہ ہے جس میں بعض بڑے بڑے بزرگ بھی شامل ہوگئے۔حقیقت یہ ہے کہ جبکہ ہم مانتے ہیں اور یہ امر واقعہ ہے کہ اسلام نے اپنی اشاعت کے ساتھ ہی حقیقی تمدن کی بنیاد رکھ دی تھی اور تالیف و تصنیف بھی تمدن کا ایک شعبہ ہے تو ہم تسلیم نہیں کرسکتے کہ اس کی بنیاد بھی قرن اولیٰ ہی میں نہ پڑگئی ہو۔ہاں اس کی تکمیل دوسری صدی میں ہوئی۔اسی سے مؤرخین نے قیاس کرلیا کہ دوسری صدی میں احادیث مدون ہوئیں۔۲؎ بخاری شریف کا ترجمہ اور تفسیر حضرت عرفانی کبیر نے مد ت ہوئی کہ بخاری شریف کے ایک بڑے حصہ کا ترجمہ اور تفسیر حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح اوّل کے درس بخاری کے نوٹوں اور اپنی خدداد قابلیت کی مدد سے تیار کی تھی جو مالی تنگی کی وجہ سے آج تک معرض ظہور میں نہ آئی۔حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح اوّل نے کئی جگہ اپنے دست مبارک سے اس کی درستگی اور اصلاح بھی فرمائی تھی۔ہم الحکم کی آج کی اشاعت میں اس ترجمہ اور تفسیر کا ایک باب پیش کرتے ہیں۔(ایڈیٹر)