ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 4
اس کا بھی جواب نہ دیا۔جب مسلمان ایسے ہوگئے تو پھر تم نے سنا یا پڑھا ہوگا کہ چنگیز خاں نے کیا کیا۔خوارزم وہاں سے بھاگ کر سندھ آیا اور پھر ایران بھاگا۔خدا کی بات سچی ہوگئی ۔میری نصیحت کو یاد رکھو سکھ پاؤ گے کہ کسی ادنیٰ سے ادنیٰ حاکم کا بھی تعلق ہو اور تمہیں کوئی دکھ پہنچے تو اپنی تبدیلی کرو اور استغفار کرو۔جب تک تم اپنی حالت نہیں بدلو گے سکھ نہیں ملے گا۔(الرعد:۱۲) مجلس انصاراللہ میں شمولیت حضرت صاحبزادہ صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی اجازت اور ایک رؤیا صالحہ کی بنا پر انصاراللہ نام ایک مجلس قائم کی ہے جس کے لیے حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا تھا کہ ’’میں آپ کے انصاراللہ میں داخل ہوتا ہوں۔‘‘ حضرت خلیفۃ المسیح سپارش کرتے ہیں میرے مکرم دوست منشی حسین بخش صاحب اپیل نویس سیکرٹری انجمن اسلامیہ بٹالہ ایک مستعد کام کرنے والے اور اسلام کے لیے غیرت رکھنے والے بزرگ ہیں۔انہوں نے ’’ثبوت واجب الوجود‘‘ اور ’’تدبیر‘‘ کے علاوہ ایک کتاب بھارت برکش نام نخل اسلام کے جواب میں شائع کی ہے۔اس کتاب پر میں اپنی رائے ظاہر کرچکا ہوں۔حضرت خلیفۃ المسیح مدظلہ العالی نے کتاب کے متعلق جو رائے دی ہے وہ درج ذیل ہے۔’’رائے حضرت خلیفۃ المسیح مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِیْ‘‘ منشی حسین بخش صاحب سیکرٹری انجمن اسلامیہ بٹالہ باوجود اپنے دوسرے مشاغل کے مذہبی اور اسلامی خدمت کی طرف بھی متوجہ رہتے ہیں جو قابل شکرگزاری ہے۔انہوں نے بھارت برکش نام ایک نیا رسالہ ان اعتراضات کے جواب میں لکھا ہے جو نخل اسلام نامی کتاب میں ایک نوآریہ نے اسلام پاک پر کئے تھے۔منشی صاحب کی یہ اسلامی خدمت بہت قابل قدر ہے۔پڑھے لکھے مسلمانوں کو چاہئے کہ ایسی کتابوں کی قدر کریں اور ان کے مطالعہ سے واقفیت بڑھائیں۔ایسی کتابوں کی اشاعت