ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 496
آپ اس کی حفاظت نہ چاہتے تھے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ آپ پسند نہیں کرتے تھے کہ کوئی ایسا امر ہو جو التباس کا ذرا بھی ذریعہ ہوسکے اور کلام ربّانی کی حفاظت اور عظمت اس امر کی مقتضی تھی کہ کوئی اور بات نہ لکھی جاوے تا کہ کسی وقت کسی کم عقل کو یہ شبہ نہ ہو سکے کہ شاید یہ بھی قرآن مجید کا کوئی حصہ ہو۔علاوہ بریں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فعلی اور عملی کتاب جس کو سنت کہتے ہیں ہر وقت کھلی ہوئی تھی۔اس لئے آپ نے اپنی قوم کی توجہ کو سرا سر قرآن مجید کے حفظ کی طرف لگا دیا۔اس اہتمام اور شوق نے مسلمانوں کی قوت حافظہ میں ایک بے نظیر ترقی پیدا کردی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن مجید کا نزول اس کا انضباط اور تحفظ مسلمانوں کی احتیاط اور اسلامی دلدادگی کی ایک ایسی نظیر ٹھہر گیا کہ دوسری قومیں اس کی مثال سے عاجز ہیں اور اس شوق نے مسلمانوں میں ایک جوش پیدا کردیا کہ وہ محبوب و مولیٰ کے ان کلمات طیبات کو بھی جو آپ وقتاً فوقتاً اصلاح مسلمین کے لئے فرماتے تھے شوق سے یاد کرلیتے تھے اور یاد رہنے دیتے تھے۔گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک ایک روحانی مشین تھی جس سے صحابہؓ کے قلوب پر نقوش کندہ ہوتے تھے۔آپ کے منہ سے کسی کلمہ کا نکلنا اس شیدائے حق قوم کے لئے ایک قانون اور ضابطہ ہوتا تھا۔اس لئے اس پاک جماعت کا ہر فرد اس شوق میں مست رہتا تھا کہ آپ کے منہ سے کچھ سنے اور اسے یاد رکھے۔احادیث کے پُر غور مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنے کاروبار کی وجہ سے اگر ہر نماز میں بعض صحابہ شامل نہ ہوسکتے تھے تو وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر باری مقرر کرلیتے اور نوبت بہ نوبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور رہتے اور آپ کے ارشادات کو یاد رکھتے۔جس طرح پر قرآن مجید کا نزول تئیس سال میں ہوا اور اس عرصہ میں اس کا نزول اس کے یاد کرنے کا نہایت ہی آسان ذریعہ ہوگیا۔اسی طرح پر آپ کے کلمات طیبات کے یاد کرنے کے لئے بھی اتنا بڑا زمانہ کافی تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کے انضباط کا جو اہتمام خود فرمایا تھا اور جس