ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 495
آگاہ کردینے میں دلیر تھے بلکہ اپنی کمزوریوں اور اخلاقی پستیوں کا فخریہ ذکر کرنا ان میں اسی مقصد کے لئے پیدا ہوگیا تھا تا آئندہ چل کر یہ جرأت اور دلیری ایک گراں مایہ گوہر کی حفاظت کا ذریعہ ہوسکے۔ان دونوں عطیوں نے تمدن کے سر چشمہ کی حفاظت میں بڑی مدد دی۔غرض فن روایت کی ہی شاخ اور ضروری شاخ فن حدیث ہے۔حدیث اور اب اصطلاح میں حدیث سے مراد وہ اقوال افعال اور احوال ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہیں۔جب سے آپ اصلاح عالم کے لئے مبعوث ہوئے اس کے بعد جو کچھ آپ کے منہ سے نکلا یا آپ نے کرکے دکھایا یا آپ نے کسی سے کرایا وہ حدیث کی ذیل میں آجاتا ہے یا دوسرے الفاظ میں یوں کہیں گے کہ علم حدیث اس علم کا نام ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال ،حالات صحابہ کے آثار اور ان افعال سے بحث کی جاتی ہو جو حضور کے سامنے کئے گئے ہوں اور آپ نے ان سے روکا نہ ہو۔قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں امتیاز اللہ تعالیٰ کا کلام جو سرور عالم فخر بنی آدم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہورہا تھا وہ قرآن کریم ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذاتی اقوال و افعال حدیث ہیں۔ان دونوں کے درمیان ایک تیسری چیز اور بھی ہے جس کو سنت کہتے ہیں وہ اعمال اور افعال جو سرور کائنات نے کرکے دکھادئیے اور جو آج تک متواتر ہم تک پہنچے ہیں وہ سنت کہلاتے ہیں یا یوں کہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی کا نام سنت ہے وہ عملی رنگ میں ہی ہم تک پہنچی ہے۔اگر دنیا میں آپ کے کلمات طیبات کی کوئی کتاب مدون نہ ہوتی اور احادیث کا کوئی ذخیرہ ہمارے ہاتھ میں نہ ہوتا تو بھی آپ کی عملی سیرت بلاتغیر ہمارے ہاتھ میں ہوتی۔غرض اللہ تعالیٰ کا کلام جو آپ پر نازل ہوتا اور فوراً ہی لکھ لیا جاتا۔آپ بنفس نفیس اس کی کتابت کا اہتمام فرماتے اور اپنے سامنے لکھوا لیتے تھے۔برخلاف اس کے احادیث کی کتابت کی آپ نے ممانعت فرما دی تھی اور یہ حکم دے دیا تھا کہ قرآن مجید کے سوا میری طرف سے کچھ نہ لکھو۔۱؎ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ آپ نے احادیث کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں کیا یا