ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 490 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 490

اصل نوٹوں کے شروع کرنے سے پیشتر میں نے اس وقت ہی ایک مقدمہ بھی لکھا تھا۔اگرچہ اب اس میں بہت سی تبدیلیاں ہوسکتی ہیں مگر میں اس خیال سے کہ وہ حضرت خلیفۃ اوّل رضی اللہ عنہ کی نظر سے گزر چکا ہے۔اسے ہی دے دیتا ہوں۔اس طرح پر ایک ہفتہ قرآن مجید کے حقائق و معارف اور ایک ہفتہ بخاری شریف پر نوٹ درج ہوتے رہیں گے۔وَ بِاللّٰہِ التَّوْفِیْق۔(عرفانی) بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم بخاری شریف پر نوٹ انٹروڈکشن اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی خُلَفَآئِ مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَ سَلِّمْ قرآن مجید میں ایک عجیب اور عظیم الشان دعویٰ کیا گیا ہے جو اس سے پہلے کسی قوم کے ہادی یا نذیر و مامور نے نہیں کیا اور وہ یہ ہے(الاعراف :۱۵۹) یعنی اے نبی کریم ! کہہ دو کہ اے لوگو ! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں۔اس دعویٰ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولوالعزمی، آپ کی دعوت کی بے نظیری اور عالمگیری عیاں ہے۔آپ کی نبوت و دعوت کا دائرہ نوع انسان پر کھینچا گیا ہے۔جہاں کہیں بھی کوئی انسان آباد ہے وہاں کوئی نبوت کوئی شریعت کوئی تمدن اگر حکومت و ہدایت کا موجب ہوسکتا ہے تو وہ وہی ہے جس کو اسلام کہتے ہیں۔اس لیے اسلام ایک عالمگیر مذہب کہلاتا ہے اور یہی وہ سر ہے کہ اسلام دوسرے مذاہب کی طرح نیشنلٹے کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ اس نے ہمیشہ ہیومینٹی کی تعلیم دی ہے۔جبکہ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے اور نوع انسان کے لئے بہترین رہنما اور ہادی ہے تو یہ ضروری امر تھا کہ اس کے لانے والا اپنی زندگی میں ان تمام مراحل و شعبہ ہائے زندگی کا نمونہ رکھتا جن میں سے انسان کو گزرنا پڑتا ہے۔اسی لئے دوسرا دعویٰ قرآن کریم نے یہ کیا  (الاحزاب :۲۲)