ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 48 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 48

پھر بھی دعا کروں گا اللہ تعالیٰ نے موقع دیا۔۱؎ حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ بنصرہ العزیز دیر تک نصائح فرماتے رہے اور فرمایا کہ ہر قسم کے لوگوں سے ملنا چاہیے اس سے بہت کچھ تجربہ اور فوائد حاصل ہوتے ہیں مومن کو ایک نیت کر لینی چاہیے جو نیک ہو۔میرا اپنا تو یہ حال ہے کہ من بہر جمعیت نالان شدم جفت خوش حالان وبد حالان شدم میں چاہتا تھا کہ میاں صاحب کو ساری مثنوی پڑھادوں مگر جس قدر پڑھ لی ہے وہ کافی ہے باقی اللہ تعالیٰ خود ہی آپ کو پڑھادے گا۔فرمایا۔کانپور جاؤ تو مدرسہ الٰہیات والوں کو یوگ ابھیاس کے متعلق ضرور سمجھانا اور جرأت سے یہ بات کہہ دو کہ یوگ ودّیا کا نتیجہ شاکت مت نکلا ہے اس کو تم کیوںکوئی مفید چیز سمجھتے ہو؟ قرآن کریم کی ایک ہدایت حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح کی ایک بات جو ایک موقع پر آپ نے فرمائی تھی اور وہ یہ ہے کہ انسان جس جس قدر اپنے آپ کو قرآن مجید کی حکومت کے نیچے لاتا ہے اسی قدر وہ (البقرۃ:۶۳) کے نیچے آجاتا ہے۔قرآن مجید کی کامل اطاعت اور فرمانبرداری انسان کو اس مقام پر پہنچادیتی ہے جس کا نام جنت ہے اورقطع نظر اور باتوں کے کوئی شخص بھی جو قرآن کریم کی کسی ہدایت پر عمل کرتا ہے وہ اس کا پھل پاتا ہے۔چراغ کا کام روشنیکا دینا ہے خواہ ایک مومن اس کو جلائے یا فاسق فاجر، وہ روشنی ضرور دے گا۔اسی طرح پر قرآن کریم کی ہدایت ہے۔میں نے ایک شخص کو ایک مرتبہ کہا کہ قرآن مجید میں کوئی ہلاکت کی راہ نہیں۔وہ ایک ایسی جگہ جاتا تھا جہاں اکثر لوگ زنا میں مبتلا ہوکر ان امراض خبیثہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں جو اس کا لازمی نتیجہ ہیں۔اس کو کہا کہ قرآن مجید کی ایک ہدایت کو یاد رکھو