ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 49
(بنی اسرائیل:۳۳) زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، یہ بڑی بے حیائی اور بری راہ ہے۔اس شخص نے اس بات پر عمل کیا اور وہ خدا کے فضل سے محفوظ رہا۔۲؎ ۱؎ (ماخوذ از ایک دینی سفر الحکم جلد ۱۶نمبر ۱۴مورخہ۱۴؍اپریل۱۹۱۲ء صفحہ۱۰،۱۱) ۲؎ (ماخوذ از ایک دینی سفر الحکم جلد ۱۶نمبر ۱۵،۱۶مورخہ۲۸؍اپریل۱۹۱۲ء صفحہ۱،۲) ملفوظات حضرت خلیفۃ المسیح (مرتّبہ محمد عبداللہ صاحب بوتالوی) حضرت خلیفۃ المسیح کا خاص درس مورخہ ۱۰ ؍مارچ ۱۹۱۲ء نماز مغرب کے بعد حسب معمول صاحبزادہ حضرت خلیفۃ المسیح میاں عبدالحی صاحب قرآن شریف کا سبق پڑھ رہے تھے اور ایک کثیرتعداد دیگر طالب علموں کی بھی موجود تھی جو کہ روزانہ اس درس میں شریک ہوا کرتے تھے۔اثنائے درس میں میاں شریف احمد صاحب صاحبزادہ خورد حضرت مسیح موعود صاحب علیہ السلام کسی ضرورت کے واسطے باہر جانے لگے تو حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایاکہ جلدی واپس آنا۔پھر فرمایا کہ ایک شاہ عبدالرحیم بزرگ تھے ان کو خدا تعالیٰ نے توجہ دلائی کہ گنو اس وقت کتنے آدمی موجود ہیں۔انہوں نے گن لئے۔پھر الہام ہوا کہ آج عصر کی نماز جس قدر لوگ تمہارے پیچھے پڑھیں گے سب جنتی ہوں گے۔ایک آدمی سے وہ خوش نہ تھے۔جب انہوں نے نماز شروع کی تو وہ آدمی موجود تھا۔جب نماز ختم کی تو دیکھا کہ وہ آدمی پیچھے نہیں ہے۔آدمی گنے تو پورے تھے۔پوچھا کہ ان میں کوئی اجنبی آدمی آکر شامل ہوا ہے؟ آخر ایک اجنبی آدمی پایا گیا۔اس سے پوچھا کہ تم کس طرح شامل ہوگئے۔اس نے کہا کہ میں جارہا تھا اور میرا وضو تھا جماعت کھڑی ہوئی دیکھی میں نے کہا کہ میں بھی شامل ہوجاؤں۔پھر وہ دوسرا آدمی آگیا۔اس سے پوچھا کہ تم کہاں چلے گئے تھے۔اس نے کہا کہ میرا وضو ٹوٹ گیا تھا اور میں وضو کرنے گیا تھا۔مجھے وہاں دیر ہوگئی اتنے میں