ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 485
خصیوں کی جگہ دھو ڈالے۔جو اثر ہوتا ہے وہ ٹھنڈے پانی سے رفع ہوجاتا ہے۔امام بخاری صاحب کا مذہب ہے کہ جو کوئی جماع کرے انزال نہ ہو تو غسل کرے۔صحابہ کا اختلاف ہے۔بعض کہتے ہیں غسل نہیں بعض کہتے ہیں کہ غسل ہے۔باب ۳۵ دوسرا وضو کرائے تو کوئی عیب نہیں۔باب ۳۶ بے وضو قرآن پڑھنا درست ہے۔استدلال نکالا کہ آیتیں پہلے پڑھیںوضو بعد میں کیا۔باب ۳۷ بہت غشی سے وضو ٹوٹتا ہے تھوڑی سے نہیں۔استدلال نکالا کہ حضرت عائشہ کو غشی ہوئی اوپر پانی ڈال دیا وضو نہ کیا۔وضو نہ ٹوٹا۔باب ۳۸ امام بخاری کا مذہب ہے کہ سارے سر کا مسح کرنا چاہیے۔باب ۴۰ کَادُوْا یَقْتَتِلُوْنَ عَلٰی وُضُوْئِ ہٖ۔بڑا غل مچایا۔ایک دوسرے سے پانی کو جھپٹا مار کرچھینتے تھے۔یہ محاورہ ہے۔وضو کا بچا ہوا کس کو کہتے ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے تھے اور آپ کا پانی جو ٹپکتا تھا وہ ہے۔بعض کہتے ہیں کہ وضو کرنے کے بعد جو پانی ہو۔میرا بھی یہی خیال ہے۔(یہ ایک لمبی حدیث کا ٹکڑا ہے جس کو امام بخاری صاحبؒ نے کتاب الشروط میں نکالا اور یہ واقعہ صلح حدیبیہ کا ہے۔جب مشرکوں کی طرف سے عروہ بن مسعودؓ ثقفی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گفتگو کرنے کے لئے آیا تھا۔اس نے لوٹ کر مشرکوں سے جاکر بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ آپ کے ایسے جان نثار ہیں کہ آپ کے وضو سے جو پانی بچ رہتا ہے اس کے لینے کو ایسے گرتے ہیں گویا قریب ہے کہ لڑ مریں گے۔ایڈیٹر) باب ۴۲ فقہاء اور محدثین میں اختلاف ہے کہ آدمی چُلُّو میںپانی لے اور اسی میں سے منہ میں پانی لے پھر اس سے ناک میں لے آیا اس طرح جائز ہے یا اس طرح کہ الگ الگ پانی لے۔