ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 484 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 484

باب ۳۴ اَلْکَلْبُ۔کتا۔اس جانور میں یہ اخلاقی نقص ہے کہ یہ اپنی قوم کے ساتھ پیار نہیں کرتا۔پھر شہوت بڑی تیز ہوتی ہے۔شریعت اسلام نے کتوں کو گھروں میں اس لئے رکھنا پسند نہیں کیا کہ کتے اکثر باولے ہوتے ہیں اور گھر میںکتا برتنوں میں منہ لگانے سے رہ نہیںسکتا اور اس کے منہ میں خطرناک زہر ہوتی ہے جس سے انسان بیمار ہوجاتا ہے اور خطرناک بیماری ہوتی ہے۔اس لئے فرمایا کہ کتا اگر کسی برتن کو منہ لگا ئے تو اس کو ایک دفعہ مٹی سے اور سات دفعہ پانی سے دھونا چاہیے۔لطیفہ جرمن کا ایک پروفیسر کہتا ہے کہ میں نے جب سنا کہ نبی کریمؐ نے فرمایا ہے کہ کتا جب برتن سے پانی پی جائے تو سات دفعہ پانی کے ساتھ دھونا اور ایک دفعہ مٹی کے ساتھ، تو میں نے سوچا کہ اتنا عظیم الشان شخص جو بات کہتا ہے ضرور ٹھیک ہوگی۔میں نے تمام اقسام کی مٹیوں کو لیا اور ان کی خاصیت کو دیکھا تو سب مٹیوں میں نوشادر کو پایا اور اس سے یہ نسخہ نکالا کہ اگر کسی کو بائولا کتا کاٹ جاوے تو یہ اس کے لئے خوب علاج ہے۔میںنے جب یہ سنا تو میرا دل کانپ گیا کہ لوگ انبیاء کی باتوں کی کیسی تحقیر کرتے ہیں مگر اس شخص نے کیسی قدر کی۔اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ۔جن قوموں میںکتے رکھتے ہیں وہ اکثر اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔شکار کے لئے اور مویشی، زراعت کی حفاظت کے لئے کتا رکھنے کی اجازت ہے۔باب ۳۴ پاد اور پُھسکی سے وضو کیوںٹوٹتا ہے؟ بدبو انسان کے دماغ کو صدمہ پہنچانے والی چیز ہوتی ہے۔الٰہیات کے سیکھنے کے لئے بدبودار چیزیں مخل ہوتی ہیں۔بے ہوش کے منہ پر پانی ڈالنے سے ہوش آجاتی ہے۔اس لئے بدبو وغیرہ کے اثر کو دور کرنے کے لئے وضو کروایا۔مَذَّآء۔صرف قریب قریب جگہ دھوئے۔شیخ بن حزم کا مذہب ہے کہ سارا ذَکَر اور