ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 483 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 483

(جب پائوں میں موزے یا جوتے یا پاتابے نہ ہوں تو پائوں دھونا ضرور ہے ان کا مسح کرنا کافی نہیں۔اکثر علماء کا یہی قول ہے اور جو بعضوں نے سر کی طرح پائوں کا مسح وضوء میںکافی رکھا ہے امام بخاری صاحب نے یہ باب لا کر ان کا ردّ کیا ہے۔ایڈیٹر) باب ۲۹ اَلْمِطْہَرَۃُ۔پانی کا برتن۔باب ۳۰ اَلسِّبْتِیَّۃُ۔وہ چمڑا جس کے بال اتارے جائیں۔باب ۳۱ یُعْجِبُہُ التَّیَمُّنُ۔ہمارے ملک میں دائیں ہاتھ کو راست سیدھا کہتے ہیں اور بائیں کو الٹا، چپ، یسار کہتے ہیں۔عربی میں یمین حق کو کہتے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ راستی سے لو اور راستی سے دو … کیا عجیب بات فرمائی۔بخاری صاحب اور آج کل کے مولویوں میں بہت فرق ہے۔بخاری صاحب قرآن مجید کو مقدم کرتے ہیں۔صحابہ کرام کو لیتے ہیں، تابعین کو لیتے ہیں، تبع تابعین کو لیتے ہیں۔یہ خود بھی تبع تابعین میں سے ہیں اور اپنے زمانہ کے لوگوںکو لیتے ہیں، ائمہ کو لیتے ہیں، سب کی روایت کو لیتے ہیں۔ہمارے لوگوں کو ہم جب کہتے ہیں کہ لوگوں نے یہ اختلاف کیا ہے تو ہم سے پوچھتے ہیں کہ ہاں جی آپ کا کیا فتویٰ ہے۔یہ بے ادبی ہے۔پھر ایسا فتویٰ نہ پوچھو۔باب۳۲ سو برس تک پانی کے مسائل میں بحث نہیں ہوئی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کل دو دفعہ معمولی طور سے سوال ہوا ہے۔امام بخاری صاحب نے بھی بہت حصہ پانی کے متعلق نہیں لکھا۔میری سمجھ میں یہ ہے کہ ملک کے لحاظ سے پانی کئی قسم کا ہوتا ہے کشمیر میں ہر گھر چشمہ جاری ہے تو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکلیف نہیں دی۔باب ۳۳ لَمَّا حَلَقَ رَْأسَہٗ کَانَ اَ بُوْطَلْحَۃَ اَوَّلُ مَنْ اَخَذَ مِنْ شَعْرِہٖ۔اس سے معلوم ہو کہ تبرک بھی ایک خاصیت رکھتا ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ یہ شرک ہے۔