ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 482
طرح سے ہوئی جس طرح حضرت عمرؓ پہلے کیا کرتے تھے۔(ایڈیٹر) باب۱۵ اِسْتِنْجَاء۔نجوہ۔پاخانہ۔اِسْتِنْجَاء باب افعال سلب کے معنے بھی دیتا ہے تو اس ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ازالۃ النجوہ۔گندگی کو دور کرنا۔پلیدی کو دوطرح دور کرنا ہوتا ہے۔(۱) پانی سے یا (۲) مٹی سے۔باب۱۷ عَنَزَۃٌ۔لکڑی ہو اور اس کے نیچے پھل لگا ہو تو اس کو عَنَزَۃٌ کہتے ہیں۔ہمارے ملک میں برچھیکہتے ہیں۔باب۱۸ استنجاء دائیں ہاتھ سے نہیں کرنا چاہیے۔باب۲۱ رَوْثٌ۔اس میں عموماً ترجمہ کرنے والوں نے غلطی کی ہے۔رَوْث ٌ کے معنے گوبر کے کئے ہیں حالانکہ رَوْثٌکے معنی گدھے کی لید کے ہیں۔رِکْسٌ۔نجس۔باب۲۶ اِسْتَجْمَرَ۔علماء نے شور مچایا ہے کہ استنجاء کرنے کے معنے ہیں مگر اس کے معنے یہی ہیں کہ آدمی دھونی لیوے جس طرح نعیم کو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات پر مقرر کیا تھا تو اس کے معنے دھونی کے ہیں مگر اس سنت کو لوگوں نے چھوڑ دیا ہے اور اب مسجدوں میں دھونی نہیں دی جاتی اور نہ گھروں میں دی جاتی ہے۔وَ اِذَااسْتَیْقَظَ اَحَدُکُمْ مِنْ نَّوْمِہٖ فَلْیَغْسِلْ یَدَہٗ۔مترجم کہتا ہے کہ پھوڑا پھنسی وغیرہ ہوتی ہے اس واسطے دھونا چاہیے۔میں کہتا ہوں کہ عالم رؤیا میں جہاں اللہ تعالیٰ انسان کو لے جاتا ہے اس کا اثر بدن پر ضرور پڑتا ہے غم کا ہو یا خوشی کا۔۲۔احتلام میں دیکھو کہ اس کے نشان بدن پر کپڑے پر ہوتے ہیں تو جب اثر ہوتا ہے تو ضرور ہے کہ اس کا اثر … اخلاق پر بھی ہو۔باب ۲۷ غَسْلُ الرِّجْلَیْنِ۔یہاں بھی شیعوں کا ردّ ہے کہ پائوں کو دھونا چاہیے مسح نہیں۔