ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 481 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 481

باب۱۱ لَا یَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَۃَ بِغَائِطٍ الخ۔بڑا مسئلہ ہے۔امام بخاری صاحب کا یہ مذہب ہے کہ قبلہ کی طرف منہ اور پیٹھ نہ کرو کیونکہ مکہ وہاں جنوب شمال کی طرف ہے۔اس پر چار مذاہب نے اختلاف کیا ہے۔۱۔حنفی کہتے ہیں کہ نہ گھر نہ باہر نہ دیوار نہ سایہ میں۔مکہ کی طرف منہ کرو اور یہ امام بخاری نے خلاف کیا ہے۔۲۔مالکی کہتے ہیں کہ یونہی باتیں بنائی ہیں۔کیا سارے جہان میں مکہ موجود ہے۔۳۔شافعی کہتے ہیں کہ میدان میں منع ہے گھر میں نہیں۔۴۔احمد حنبل کہتے ہیں کہ پیٹھ ہر جگہ جائز ہے۔امام بخاری صاحب نے شافعی کو ترجیح دی ہے۔اَلْغَائِطُ۔لغت کے لحاظ سے میدان کو کہتے ہیں۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو فرماتے ہیں تو غائط سے مراد میدان ہے۔أَتَی الْغَائِطَ کے یہ معنے ہیں کہ جنگل میں جائے رفع حاجت کے لئے۔غائط اگر مطلق رفع حاجت کے معنوں میں لیا جائے تو بولنا چاہیے کہ أَتَی الْغَائِطَ۔باب۱۲ لَبِنَتَیْنِ۔دو اینٹیں۔باب۱۳ اَلْمَنَاصِعُ۔جگہ کا نام ہے۔میدان پاخانہ کا۔اَلْحِجَابُ۔پردہ۔مطلب یہ تھا کہ گھر میں جا کر ذکر کریں۔نبیوںمیں اور حضرت عمرؓ میں یہ فرق ہے کہ نبی سوچتے ہیں کہ انسان پر مشکل نہ پڑے۔حضرتؓ اس بات کو کب پہنچ سکتے تھے۔لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ حجاب کا حکم اترنے سے قبل ہی یہ چاہتے کہ آپ کی بیبیاں مطلق گھروں سے باہر نہ نکلیں۔گو وہ اپنا بدن ڈھانپ کر نکلتی تھیں مگر جُثَّہ کی شناخت کپڑوں کے اوپر سے بھی ہوجاتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیبیوں کے لئے یہ بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مناسب نہ سمجھا۔حجاب کا حکم بھی ان گیارہ باتوں میں سے کیا جاتا ہے جن میں نزول وحی اسی