ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 47
میں میاں صاحب کو تم پر امیر مقرر کرتا ہوں کوئی سفر بدوں امیر کے جائز نہیں اس لئے میاں صاحب کو تمہارا امیر مقرر کیا ہے۔میاں صاحب کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ آپ تقوی اللہ سے اور چشم پوشی سے عموماً کام لیں۔بہت دعائیں کریں۔جناب الٰہی میں گرجانے سے بڑے بڑے برکات اترتے ہیں۔اور آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے امیر کی پوری اطاعت اور فرمانبرداری کریں کوئی کام ان کی اجازت کے بدوں نہ کریں۔علم کا گھمنڈ کوئی نہ کرے۔میں نے بھی علوم پڑھے ہیں میں بعض وقت کوئی لفظ بھول بھی جاتا ہوں مگر خدا کے فضل سے خوب سمجھتا ہوں۔بہت پڑھایا بھی ہے اور پڑھاتا بھی ہوں مگر میں نے دیکھا ہے کہ محض علوم کچھ چیز نہیں۔علم آن بود کہ نور فراست رفیق اوست تم بھی اسی علم کو حاصل کرو اور یہی اپنا مقصد بناؤ۔باقی علوم کچھ بھی چیز نہیںہوتے۔ان کا گھمنڈ بھی نہ کرنا۔دعاؤں سے بہت کام لینا۔یہاں سے چلتے وقت راستہ میں کسی قریہ کو دیکھو تو برابر دعائیں کرو۔کسی سے مقابلہ ہو تو دعاؤں سے کام لو۔کوئی بات سمجھ میں نہ آوے تو دعاؤں سے اس کا حل چاہو۔میرا اپنا تجربہ ہے۔میں بڈھا ہو گیا۔جب انسان اللہ تعالیٰ کے دروازہ پر گر جاتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ اس کے دل کو کھول دیتا ہے اور آپ اس کی مشکل کا حل بتادیتاہے۔صاحب منار نے سلسلہ کی مخالفت کی ہے اس سے ملو تو بیشک عمدہ پیرایہ میں اس کو جتادو کہ گو تم نے مخالفت کی ہے مگر ہم لوگ ایسی مخالفت کی پرواہ نہیں کرتے۔علماء سے ملو اگر کسی سے کوئی عمدہ بات ملے تو اسے فوراً لے لو کیونکہ کَلِمَۃُ الْحِکْمَۃِ ضَالَّۃُ الْمُؤْمِنِ اَخَذَھَاحَیْث۔ُ وَجَدَھَا یعنی حکمت کی بات مومن کی گم گشتہ متاع ہے اسے لے لو جہاں سے ملے۔پھر چند علماء کے نام بتائے اور چند مدارس کے نام لئے کہ ان سے ملو اور ان مدارس کو دیکھو۔بالآخر فرمایا۔دعاؤں سے کام لو۔اب تم سب میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دو میں تمہارے لئے دعا کرتا ہوں۔