ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 477
کتاب الوضوء باب ۱ (المائدۃ :۷)۔رات کو سونے کے بعد جب اٹھو تو وضو کرلو۔تمام اعضاء کو ایک ایک دفعہ دھونا فرض ہے یا دو بار اور تین بار۔اس سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ دھویا۔بعض لوگ توہمات میں پڑ جاتے ہیں یہ جائز نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار سے زیادہ نہیں دھویا۔تین سے کم بار دھونا بالاجتماع برا نہیں۔باب ۲ بے وضو نماز نہیں۔فُسَائٌ۔بغیر آواز ہوا کا خارج ہونا۔ظاہر کا باطن سے بڑا تعلق ہے۔جب ظاہری اعضاء کو انسان پاک رکھے گا تو باطن کی گندگی کو کہاں برداشت کرسکے گا۔اس میں ایک اشارہ ہے کہ مؤمن کا ظاہر اور باطن پاک رہنا چاہیے۔باب ۳ اچھا وضوء۔چاہیے کہ اچھی طرح وضوء کیا جاوے۔ایسا نہ ہو کچھ تر ہو کچھ خشک رہ جاوے۔نُعَیْمُ الْمَجْرِ۔ایک صحابی تھے۔ان کا نام نعیم تھا۔عبداللہ کے بیٹے تھے۔مجر ان کو اس واسطے کہتے تھے کہ مسجد میں دھونی دینے کا کام ان کے سپرد تھا۔افسوس ہے کہ یہ سنت اب بالکل اٹھ گئی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ چیزیں لے کر اپنے کپڑوں میں دھونی دیتے تھے۔کیا خوشی کی بات ہو اگر نوجوان سگریٹوں کو چھوڑ کر دھونی دینے کا رواج ڈالیں۔دھونی اِن اشیاء سے تیار ہوتی ہے۔گوگل، لوبان، چرائتہ، گندھک، صندل۔دھونی کا نسخہ ایک نسخہ دھونی کا درج ذیل ہے۔عود، تگر، صندل سفید، چرائتہ۔برابروزن گوگل اور گندھک کو الگ باریک کرکے دھونی دینا بعد اس کے مذکورہ بالا ادویہ کی دھونی کرنا۔باب ۴ شک میں نہ پڑو۔بعض لوگ توہمات میں پڑ جاتے ہیں کہ شاید وضو ٹوٹ گیا۔بار بار